کشمیر کی کہانی — Page 136
بحث کی۔پہلے دن چھ گھنٹے کی بحث کے نتیجہ میں دونوں حج صاحبان نے اس بات پر اتفاق کیا۔کہ چار ملزموں کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوئے۔دوسرے دن کی بحث کے اختتام پر مزید چار کے متعلق اس رائے کا اظہار کیا۔اب صرف چار ملزم باقی رہ گئے تھے اور بحث کا آخری دن تھا۔عدالت کو مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ زائد وقت دینا پڑا۔جج صاحبان نے میر صاحب کی قابلیت کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جس محنت اور دیانتداری سے اس کیس کی پیروی کی ہے اس سے ان کو بھی بہت فائدہ پہنچا ہے اور عدل وانصاف کرنے میں اُن کو مددملی ہے۔فیصلہ محفوظ رکھا گیا خیال تھا کہ تمام ملزم بری کر دئیے جائیں گے۔تیرہ ملزم بری کئی دن گزر گئے۔فیصلہ نہ سنایا گیا۔ایک روز میر صاحب مسلم حج کے پاس گئے اور دیر کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ دونوں جوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ تیرہ ملزم بے گناہ ہیں۔اُن کو بری کر دیا جائے۔باقی چار کے متعلق اس حصہ میں اتفاق ہے کہ قتل وغیرہ کے الزام ثابت نہیں۔لیکن ہندو حج کو اس بات پر اصرار ہے کہ اگر ہم نے سب کو بری کر دیا تو ریاست کی بدنامی ہوگی۔دنیا کہے گی کہ جھوٹے مقدمات کھڑے کیے گئے تھے اور ریاست کا لاکھوں روپیہ خرچ ہو گیا ہے۔آخر یہ فیصلہ سنا دیا گیا۔تیرہ ملزم بالکل بری اور چار کو بلوہ کرنے کے جرم میں چھ چھ ماہ قید کی سزا ہوئی اور اس طرح چار ہندوؤں کو بھی اس جرم میں چھ چھ ماہ قید کی سزائنا دی گئی۔بقیہ چار کی رہائی جن کو سزا ہوئی تھی۔اُن کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔چودھری اسد اللہ خاں بیرسٹر نے ہائی کورٹ میں اپیل کی پیروی کی۔جہاں ایسی صورت پیدا ہوگئی کہ 140