کشمیر کی کہانی — Page 138
کے نتیجہ میں ریاست نے اس علاقہ میں بندو بست کرنے کے لئے حکومت ہند سے ایک سینئر آئی سی۔ایس افسر مسٹر سالسمری کی خدمات حاصل کیں۔اب ضرورت اس بات کی تھی کہ اعلیٰ قابلیت کا قانون دان مسٹر سالسبری کے ساتھ رہ کر انھیں رعایا کے نقطہ سے واقف کرے اور اُن کے حقوق کی پورے طور پر حفاظت کرے صدر کشمیر کمیٹی نے اس فرض کی انجام دہی کے لئے چودھری اسد اللہ خاں بیرسٹر کو چنا۔اورانھیں میر پوربھجوا دیا۔چودھری صاحب نے یہ کام بہت محنت سے سرانجام دیا۔اور اس علاقہ میں بہت مقبول ہوئے ریاست کے حکام کو یہ بات اچھی معلوم نہ ہوئی۔انھوں نے چودھری صاحب کو حکم دیا کہ چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر ریاست چھوڑ دیں۔چودھری صاحب نے جواب دیا۔کہ میرا جو قصور ہے مجھے بتایا جائے۔میں نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا۔جو قانون کے خلاف ہو۔اس لیے میں ریاست سے باہر نہیں جاؤں گا۔ہاں حکام ریاست اگر زبردستی اٹھا کر مجھے ریاست سے باہر چھوڑ آئیں تو اور بات ہے یا پھر مجھ پر قانون کے ماتحت مقدمہ چلایا جائے اس نوٹس کا علم مسٹر سالسبری کو ہوا تو انھوں نے ریاستی حکام سے گفتگو کر کے یہ نوٹس واپس کرا دیا۔چودھری اسداللہ خاں کا مسٹر سالسمری نے پبلک اور پرائیویٹ طور پر کئی مرتبہ شکر یہ ادا کیا۔کہ انھوں نے تعاون کر کے اُن کے لئے اس کام کو آسان بنادیا ہے۔چودھری عصمت اللہ کی خدمات چودھری عصمت اللہ وکیل لائلپور جولائی ۳۱ء میں اس وقت جبکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ابھی قیام بھی نہ ہوا تھا۔صدر محترم کی ہدایت پر سری نگر چلے گئے تھے۔جہاں سے وہ اکتوبر میں واپس آئے۔جامع مسجد کی فائرنگ کا سارا واقعہ اُن کے سامنے ہوا۔جب ٹڈلٹن کمیشن قائم ہوا تو ان کو دوبارہ سری نگر بلوالیا گیا۔کمیشن کے سامنے یہ بطور عینی شاہد پیش ہوئے۔اس کے بعد 142