کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 135 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 135

کوشش کریں گے۔دوسرے روز یہ دونوں صاحبان انسپکٹر جنرل پولیس سے ملے۔ان کو دیکھتے ہیں اس نے مذاقاً کہا LIAR آگئے ہیں LAWYER کی بجائے LIAR( جھوٹ بولنے والے کا لفظ استعمال کیا ) اس پر انہوں نے جواب دیا کہ LIAR تو آپ ہیں جو سچ بولنے والوں کو سزائیں دیتے ہیں۔پھر اُس انسپکٹر پولیس کا کیس عمدگی کے ساتھ پیش کیا۔کہ اُس نے وعدہ کیا۔کہ میں ابھی پولیس کی ضمنیاں اور گواہ کا بیان منگواتا ہوں۔اگر میری تسلی ہوگئی تو آج ہی اُسے بحال کر دیا جائے گا۔شام کو وہی انسپکٹر پھر ان وکلاء کے مکان پر آیا اور بڑی خوشی سے بیان کیا کہ آپ کی ملاقات کے معابعد آئی جی نے مطلوبہ کا غذات منگوائے اور مجھے بحال کر دیا۔البتہ جموں سے تبدیل کر کے دوسری جگہ بھجوادیا ہے۔میر صاحب نے کہا۔یہ تو اور بھی اچھا ہوا کیونکہ جموں کے حالات ایسے مخدوش تھے کہ کوئی افسر وہاں رہنا پسند نہ کرتا تھا۔جموں والوں کی درخواست میر محمد بخش نے اپنے آپ کو دو ماہ کے لیے وقف کیا تھا۔یہ عرصہ گزرنے پر انہوں نے صدر محترم کشمیر کمیٹی سے واپس جانے کی اجازت چاہی۔اس کا علم ملزمین کو بھی ہو گیا۔انہوں سے بھی جناب صدر کو بذریعہ تار گزارش کی کہ میر صاحب کو تا اختتام مقدمہ جموں ہی میں رہنے کا حکم دیا جائے۔یہ درخواست منظور کر لی گئی اور میر صاحب نے پورے چھ ماہ وہاں گزارے اور نہایت قابلیت سے یہ کام ختم کیا۔میر محمد بخش کی بحث جموں کے مشہور مقدمہ میں سترہ ملزم تھے جن پر قتل، ڈاکہ، آتش زنی اور بلوہ وغیرہ کے مقدمات تھے۔چھ ماہ بعد جب ساری کارروائی ختم ہوئی تو میر محمد بخش نے بڑی قابلیت سے 139