کشمیر کی کہانی — Page 134
وو میرا جموں سے فارغ ہو کر آنا سخت مشکل ہے۔اور نہ میں ڈاکٹر ہی ہوں کہ اُس کی مدد کر سکوں۔ہاں دعا کر سکتا ہوں۔وہ جموں میں بیٹھے ہوئے بھی کرتا رہوں گا۔“ اسیروں کی رستگاری جموں کیس میں استغاثہ کا ایک گواہ رام چند انسپکٹر پولیس پیش ہوا۔گواہ ہوشیار اور جہاندیدہ تھا۔اور حقیقت کا اظہار نہیں کر رہا تھا۔میر محمد بخش اس مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے۔انہوں نے لگا تار چار دن اس گواہ پر جرح کی چوتھے روز جب وہ جرح سے بہت زچ ہو گیا تو لنچ کے وقفہ کے وقت میر صاحب سے کہنے لگا کہ وکیل بے جاجرح کر کے گواہوں کو تنگ کرتے ہیں۔میر صاحب نے جواب دیا کہ اگر گواہ صداقت سے کام لے تو وکیل کو جرح کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی تجربہ کر کے دیکھ لیں آج ہی جرح ختم ہو جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور اُسی دن جرح ختم ہو گئی۔رات کو وہ میر صاحب کی جائے رہائش پر جہاں چودھری عزیز احمد باجوہ وکیل بھی موجود تھے۔بہت پریشان نظر آتا تھا۔اُس نے بیان کیا کہ سچ بولنے کا پھل اُسے مل گیا ہے اور اسے اس پاداش میں معطل کر دیا گیا ہے۔الزام یہ ہے کہ اُس نے جرح کے جواب میں ایسا بیان دیا ہے جس کے نتیجہ میں ملزم بے گناہ قرار دیئے جاسکتے ہیں ہر دو صاحبان نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ہم یہاں ہر قسم کے تعصب سے بالا رہ کر مظلومین کی مدد کے لیے آئے ہیں اب آپ بھی مظلوم ہیں۔ہم کل ہی انسپکٹر جنرل پولیس سے ملیں گے اور ازالہ کی 138