کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 107 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 107

تعلیم اسلامی سے بے خبر بیچاریاں کیا پہاڑ ڈھا ئیں۔۔۔( تاریخ احرار صفحه ۷۴) ان عورتوں نے جو کام کیا اور اس کا جو حشر ہوا۔وہ یہ تھا:۔مختلف بیانات کے ذریعے مسلمانوں کے سردسینوں میں ایمان کی بجھی چنگاریوں کو ہوا دینا شروع کی سلگتی کو بھڑ کا یا جاسکتا ہے مگر اوس پڑے ایندھن کی جلا یا نہیں جاسکتا۔۔۔( تاریخ احرار صفحہ ۷۴ ) نتائج وعلاج اس ایجی ٹیشن سے متاثر ہو کر علاقہ میر پور کے ایسے لوگوں نے (جن میں جوش تو تھا لیکن ہوش سے عاری تھے ) اپنے لیڈروں اور بہی خواہوں سے مشورہ کئے بغیر انفرادی طور پر عدم ادائیگی مالیہ کی تحریک شروع کردی۔ریاستی حکام کو بہانہ مل گیا۔بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔انہوں نے اُن پر وہ ظلم ڈھائے۔کہ سری نگر۔شو بیاں۔سوپور اور جموں کے مظالم بھی ماند پڑ گئے اور اس علاقہ کے مظلوم انگریزی مملکت کی طرف بھاگنا شروع ہو گئے۔صدر محترم کشمیر کمیٹی نے اپنے نمائندہ خصوصی سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کو موقع پر پہنچ کر صورت حال صورت معلوم کرنے اور اصلاح احوال کی کوشش کے لیے جموں بھجوایا۔اس سے پہلے صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے فسادات جموں کے متعلق مسٹر جیکینز (اسپیشل برٹش آفیسر) سے خط و کتابت بھی ہو چکی تھی۔جس وقت شاہ صاحب جموں پہنچے تو ینگ مینز ایسوسی ایشن اور جمہور مسلمان ریاستی حکام کا جانب دارانہ رویہ دیکھ کر فسادات کی تحقیق میں عدم تعاون کرنے پر مصر تھے۔محترم شاہ صاحب نے مسٹر لاتھر ( انسپکٹر جنرل پولیس ) سے ملاقات کر کے مسلمانوں کی شکایات کو دور کرنے کا تقاضا کیا۔انہوں نے یقین دلایا کہ مقدمات کی 111