کشمیر کی کہانی — Page 106
وو وہ نشے سے صبر نہیں کر سکتا۔قوم کی عزت وشان بیچ کر معافی مانگ کر ٹھنڈے ٹھنڈے گھر کا راستہ لیتا ہے پھر کیا نشے کے عادی افراد کے بل وو بوتے پر قومی جنگ جیتی جاسکتی ہے؟۔1( تاریخ احرار ص ۷۸) مزید والنٹیئر ز نہ ملنے اور ایجی ٹیشن ختم ہونے کا ذکر یوں فرماتے ہیں: یہ میرے گمان میں بھی نہ تھا۔کہ مجاہد روزوں کے بہانے کھسک جائیں گے۔ہمارے دلوں میں مذہب نے کیسی بُری صورت اختیار کرلی ہے۔جہاد قومی عبادتوں اور رسمی روزوں پر قربان کیا جانے لگا ہے۔غرض جو نہ ہونا چاہیے تھا وہ ہوا۔رمضان میں عام مسلمانوں کی خاموشی میدان سے باقاعدہ پسپائی نہ تھی۔بلکہ ہتھیار اٹھانے سے کانوں پر ہاتھ دھرنا تھا۔ان حالات میں دفتر نے اعلان کر دیا کہ عید کے بعد سول نافرمانی کا پروگرام زور شور سے جاری کیا جائے گا۔حالانکہ اب کسی زور شور کی امید باقی نہ تھی۔اب ہمارے پاس بہت تھوڑے والنٹیر زرہ گئے تھے۔وہ بھی پتنگ کی طرف اداس اور اکیلے اکیلے سڑک کے حاشیوں پر پھرتے 66 تھے۔1 ( تاریخ احرار صفحه ۷۴) رضا کاروں کے بعد عورتیں وو جب ان لوگوں کو ہر طرف سے ناکامی ہوئی تو عورتوں کو آگے کیا۔لیکن یہاں بھی سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔چنانچہ اس شکست کا رونا اسی طرح رود یا گیا:۔۔۔۔۔۔۔اب عالی حوصلہ عورتیں کہاں سے آئیں گی۔کہ اس سرد بازاری اور سست رفتاری میں خود قُربان ہوکر مردوں کی غیرت کو للکار ہیں۔جب مردوں کا مذہب میدانِ محاربہ کو چھوڑ کر رمضان کے روزوں اور نمازوں کے لیے معتکف ہو جانا ہو تو حالاتِ زمانہ سے ناواقف رکھی ہوئی عورتیں 110