کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 105 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 105

کاٹھ کی ہنڈیا کب تک کام دے سکتی ! ( ان لوگوں کے متعلق کشمیر کے مسلمہ لیڈر شیخ محمد عبد اللہ کی رائے پہلے آچکی ہے ) دوسرے لیڈر چودھری غلام عباس احرار کے لیڈروں کے متعلق لکھتے ہیں کہ وو جماعت احرار کے بزرگوں اور لیڈروں سے جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کو شدید اختلافات تھے۔یہ تحریک انہوں نے ہماری شدید مخالفت کے باوجود ایسے حالات میں شروع کی۔جو اسلامیان ریاست کی اس وقت کی سیاسی فضا کے لیے سازگار نہ تھی۔کمیشن کے فیصلہ کی طرف ہندوستان اور ریاست کے مسلمانوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں۔اور ہر معقول آدمی اس وقت کسی غیر آئینی کارروائی کو مفادملت کے خلاف ایک تخریبی حرکت تصور کرتا تھا۔1) کش مکش ص ۱۱۷) اپنی موت مرگئی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مساعی سے سارے ہندوستان کے مسلمانوں میں جوش و ہیجان تھا۔ایسے وقت میں نا سمجھ اور جو شیلے طبقہ کو اشتعال دلا کر ان کے جوش کا استحصال کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔لوگ جتھوں میں جانے لگے۔لیکن چند ہی دنوں کے بعد اُن کو حقیقت حال کا پتہ چل گیا اور معافیاں مانگ مانگ کر واپس بھی آنے لگ گئے۔جیل سے باہر آنے والوں کی واپسی کا یہ رد عمل ہوا کہ آئندہ کے لیے قربانی کے بکرے ملنے ختم ہو گئے اور یہ تحریک بہت جلد اپنی موت آپ مرگئی۔بے شک اس تحریک کے ایک بڑے لیڈر نے اپنے ان والنٹیئر ز کی شان میں یہ قصیدہ صد فی صد ٹھیک ہی کہا ہے کہ۔۔۔۔۔وہ 109