کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 104 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 104

جس پر اسلامیان کشمیر کے لیڈ رشیخ محمد عبد اللہ نے شیخ صاحب اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کوشکر یہ کے تار دیئے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے وکلاء جو کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے اُن کا ذکر تو بعد میں آئے گا۔شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ نے مناسب سمجھا کہ وہ صدر محترم کی خدمت میں خود حاضر ہو کر تمام مسلمانان کشمیر کی طرف سے شکریہ ادا کریں۔چنانچہ وہ دسمبر ۱۹۳۱ ء کے آخری ہفتہ میں اس غرض سے قادیان تشریف لے گئے۔مولا نا عبدالرحیم درد۔شیخ بشیر احمد اور مولانا غزنوی پنجاب جارہے تھے۔شیر کشمیر ان کے ہمراہ گئے۔راقم الحروف اور چودھری عصمت اللہ خاں وکیل ان صاحبان کے جانے کے بعد سری نگر میں ہی تھے کہ خواجہ غلام محمد صادق اور اُن کے نسبتی بھائی غلام محی الدین کرہ نے مجھ سے خواہش کی کہ وہ بھی قادیان جا کر صدر محترم سے ملاقات اور ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔اور اصرار کیا کہ میں اُن کے ساتھ چلوں۔۔۔راقم الحروف نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا دفتر چودھری عصمت اللہ خاں صاحب وکیل کے سپر د کیا اور ۲۴ / دسمبر کو سری نگر سے روانہ ہوکر ۲۶ دسمبر کی صبح کو ہم تینوں صدر محترم کے حضور پہنچ گئے۔کانگرسی مسلمانوں کی سول نافرمانی اُس وقت جب اہالیان کشمیر اپنے مطالبات پیش کر کے اُن کی منظوری کے منتظر تھے۔ان لوگوں نے جو کانگرس سے وقتی طور پر روٹھ کر علیحدہ ہو گئے تھے۔مسلمانان کشمیر کی مؤثر تحریک کو عین وقت پر سبو تا ثر کرنے کے لیے جمہور مسلمانوں اور کشمیری نمائندوں کی رائے کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے اور ریاست میں جھتے بھجوانے کا اعلان کر دیا۔ان میں سے بعض کو یہ زعم باطل تھا کہ وہ اس طرح مسلمانوں کے گاندھی اور نہرو بن جائیں گے لیکن 108