کشمیر کی کہانی — Page 103
انگلستان سے واپس آچکے تھے۔واللہ اعلم ریاستی حکام صوفی صاحب سے کیوں گھبراتے تھے۔ان کو بغیر کسی الزام یا قانون کے ریاست کے داخلہ سے روک لیا۔لیکن صوفی صاحب تو یہ عزم صمیم لے کر گھر سے روانہ ہوئے تھے۔کہ مظلومین کی امداد کا جو مشن ان کے سپر د ہوا ہے وہ اسے ضرور پورا کریں گے۔چنانچہ تمام رکاوٹوں کے باوجود سری نگر پہنچ گئے۔راقم الحروف بچپن ہی سے صوفی صاحب کو جانتا ہے۔جب وہ وارد ہوئے تو مجھ سے صرف ایک گز کے فاصلہ پر تھے لیکن میں انہیں پہچان نہ سکا۔صوفی صاحب کئی ماہ سری نگر میں کام کرتے رہے۔شیخ بشیر احمد سری نگر میں پلٹن کمیشن اور گلینسی کمیشن کے لیے شہادتوں کی تیاری اور سنگین مقدمات کی پیروی کے لیے ایک اعلیٰ درجہ کے قانون دان کی خدمات کی ضرورت تھی۔شوپیاں کیس ساری وادی میں بہت اہمیت حاصل کر چکا تھا شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ اپنے ضلع سے لاہور ہائی کورٹ میں پہنچ کر ترقی کی منازل بڑی سرعت سے طے کر رہے تھے لیکن صدر محترم کے اشارہ پر سب کام بند کر کے سری نگر پہنچ گئے۔اور اس کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔دونوں کمیشنوں کی تیاری اور مقدمات کی پیروی کے کام میں بڑی عرق ریزی کی۔جس کے نتائج بھی شاندار برآمد ہوئے شوپیاں کیس کو جس میں کئی سرکردہ مسلمان قتل کے الزامات میں ماخوذ تھے۔اس قابلیت سے چلایا کہ۔۔۔صرف چند دن کی کارروائی کے بعد محترم شیخ صاحب کے دلائل سے متاثر ہو کر جج نے اس کیس کے ایک اہم ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا۔107