کشمیر کی کہانی — Page 102
شاندار خدمات کا اعتراف راقم الحروف اس جلسہ میں شروع سے آخر تک موجود رہا۔تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اللہ اکبر اسلام زندہ باد اور صدر کشمیر کمیٹی زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے تھے۔اور حاضرین خوشی سے اچھلتے تھے۔اسی جلسہ میں جو تین ریزولیوشن متفقہ طور پر منظور ہوئے۔ان میں سب سے پہلا آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور اُس کے محترم صدر کے شکریہ پر مشتمل تھا۔ایک قرار داد میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔کہ یہ مسجد ہر فرقہ کے مسلمانوں کے لیے کھلی رہے گی اور اس میں سب کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔نیز اس مسجد میں کوئی ایسی تقریر نہیں کی جائے گی جس سے کسی فرقہ کے جذبات مجروح ہوں۔کیونکہ یہ مسجد تمام فرقوں کے مسلمانوں کی متحدہ کوشش سے واگزار ہوئی ہے۔۔۔جلسہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد جب رات گئے اپنے ہاؤس بوٹ پر پہنچے تو ہمارا ہاؤس بوٹ پھولوں۔ہاروں اور بجلی کے قمقموں سے روشن تھا اور گھاٹ پر بھی چراغاں تھا۔یہ سب کام رضا کاروں نے خود بخود کیا تھا۔ان میں بخشی غلام محمد اور خواجہ غلام قادر ڈکٹیٹر ، خواجہ غلام محمد صادق اور خواجہ غلام محی الدین کرہ پیش پیش تھے۔اور یہ سب دوسرے رضا کاروں کے ہمراہ موجود تھے۔ہمارے ہاؤس بوٹ پر پہنچتے ہی ان لوگوں نے پھر خوشی سے نعرے لگائے۔صوفی نیاز آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ریاستی مسلمانوں کی امداد کے لیے جو آزمودہ کارکن کشمیر میں بھجوائے۔ان میں صوفی عبد القدیر نیاز (بی اے ) کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔وہ 106