کر نہ کر — Page 31
31 وطن اور حکومت کا بھی حق ہے۔پس تو یہ اے خاتون ! تو مخش لٹریچر سے بچ ورنہ وہ سب حقوق اپنے درجہ اور موقعہ کے تیری پاکدامنی کو نجس کر دے گا۔مطابق ادا کر۔ہے تو تکلف سے بیچ۔تو یا درکھ کہ مصائب اور تکالیف کے سوا تیری اخلاقی اور روحانی تربیت ناممکن ہے۔تو کوئی نصیحت سُن کر فوراً اس کے مقابل ہی تو کسی کی گمنام شکایت نہ کر۔ضد کا پہلو اختیار نہ کر بلکہ انکار سے پہلے تو کسی کی ہو اخارج ہونے پر کبھی نہ ہنس۔سوچ اور غور کر۔تو اپنے دن بھر کے اعمال کا محاسبہ رات کو تو لوگوں کی خوبیوں کا بھی قدردان بن۔سوتے وقت کیا کر۔یا درکھ کہ سب بڑا جہاد اپنے نفس سے جہاد تو اپنے بچوں کو غیر کے باغ کا پھل توڑنے سے منع کر کہ یہ چوری ہے۔ہے۔ا تو ہر وقت تیوری چڑھائے رکھنے سے تو کسی کی سٹیشنری یا کتابیں بغیر اجازت کے نہ لے کہ یہ بھی چوری ہے۔پر ہیز کر۔تو با مذاق انسان بننے کی کوشش کرنہ کہ چ اے طالب علم ! تو سکول کا چاک اپنے گھر چڑا۔میں نہ لا کہ یہ بھی چوری ہے۔لا تو نہ اپنا وقت ضائع کر نہ دوسروں کا۔تو ہو تو اپنے والدین کی اجازت کے بغیر گھر ایسا وعدہ کبھی نہ کر جسے تو پورا نہ کر سکے۔کی اشیاء پر تصرف نہ کر۔کر جب تو سرکاری اشیاء کا امین ہو تو سرکاری * تو امتحان میں نقل نہ کر کہ یہ بھی چوری ہے عمدہ چیزوں کو اپنی ناقص چیزوں سے تو غیر مذہب والوں کی بھی دل آزاری نہ کر ی تو اپنی خوراک لباس اور بودوباش میں تبدیل نہ کر۔تو قانون کی آڑ میں خیانت اور بددیانتی حد سے زیادہ فراخی نہ کر۔مگر خشت سے بھی کام نہ لے۔نہ کر۔