کر نہ کر — Page 32
32 ا تو جاسوسی نہ کر۔تو حتی الوسع سوال کرنے سے بچ۔دے تو پھر اس کا ذ۔جب تو کسی کے قصور کو ایک دفعہ معاف کر تو مہمان کے لئے حد سے زیادہ تکلف نہ ہو تو لوگوں کے عیب اور کمزوریاں سُن کر خوش نہ ہو۔کر کہ یہ یخی ہے۔ہیں تو اپنے رویا اور کشوف پر نازاں اور متکبر ہیں تو نیکی سنوار کر ادا کر۔نہ ہو۔تو کمینہ پن سے بیچ۔یا تو اپنی دُعا کی قبولیت کی وجہ سے تکبر نہ کرے تو معذوروں اور اپاہجوں کی امداد کر۔اگر اگلے بزرگوں نے کوئی غلطی کی ہے تو تو یہ اگر تو طبعی تقاضوں کو عقل کے ماتحت کر اُن کی پیروی نہ کر مگر اُن پر طعن بھی نہ کر دے تو تو با اخلاق انسان بن جائے گا۔تو اپنے بھائیوں اور ماتحتوں کی ڈھارس د اور اگر تو عقل کو دین کے ماتحت کر دے تو بندھا اور اُن کو نا اُمید سے بچا۔پھر تُو با خدا انسان بن جائے گا۔اے لڑکے جب تجھے کوئی گندی یا گناہ کی تو خطا کاروں کی خطائیں بخشنے کا موقعہ بات سکھائے تو تو اس کا مقابلہ کر۔ہاتھ سے نہ دے۔ہے تو کسی مذہبی پیشوا کو بُرا نہ کہہ۔تو بزرگوں کا ادب کر۔ملا تو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک ہو تو چھوٹوں پر شفقت کر۔سلوک کر۔تو اپنی زبان کو قابو میں رکھ۔تو جانوروں پر بھی بے رحمی نہ کر۔م تو حتی الوسع اپنا کام خود کیا کر۔جب تو کسی کو مصیبت میں دیکھے تو خدا کا یہ تیرے مال میں نہ صرف سوالی کا حصہ ہے شکر کر کہ تُو اس سے محفوظ ہے۔تو کوئی راز کی بات سنے تو اُسے لوگوں سے جانوروں کا بھی۔نہ کہتا پھر۔بلکہ خاموش حاجتمند اور بے زبان لا تو صبغتہ اللہ یعنی خُدائی اخلاق اپنے اندر