کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 279

کرامات الصادقین — Page 74

كرامات الصادقين ۷۴ اُردو ترجمه إلى قَوْلِهِ يَرُنُو الْحَكِيمُ تَلَذَّذَا وَيُعْرِضُ عَنْهُ الْجَاهِلُ الْمُتَكَبِّرُ اس کے قول پر دانا آدمی لذت سے محبت کی نگاہ ڈالتا ہے اور متکبر جاہل اس سے اعراض کرتا ہے۔كِتَابٌ جَلِيلٌ قَدْ تَعَالَى شَأْنُهُ يُدَافِى رُءُ وُسَ الْمُنْكِرِينَ وَيَكْسِرُ وہ ایک شاندار کتاب ہے۔اس کی شان بہت بلند ہے۔وہ منکرین کے سروں کو کچل دیتا ہے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔هُوَ السَّيْفُ فِي أَيْدِى رِجَالِ مَوَاطِنٍ فَلَنْ يَعْصِمَ دِرْعٌ مِنْهُ فَوْجًا وَّمِغْفَرُ وہ مردان کار زار کے لئے ایک تلوار کی حیثیت رکھتا ہے سو ( مقابل ) فوج کو ان کی زِرہ اور خو دنہیں بچا سکیں گے۔كَلَامٌ يَّفُلُّ الْمُرْهَفَاتِ بِحَدِهِ يُبَشِّرُنَا فِي كُلِّ أَمْرٍ وَّ يُنذِرُ وہ ایسا کلام ہے کہ اپنی تیز دھار سے تیز تلواروں کو کند کر دیتا ہے اور ہمیں ہرامر میں بشارت دیتا ہے اور انذار بھی کرتا ہے۔۔يُدَيَّةٌ قَوْمٍ مُنْكِرٍ مَّعْلُولَةٌ وَ هُدَّتْ هَرَاوَاهُمْ وَ سُرُّوا وَ كُسَرُوا منکر لوگوں کے کو تاہ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور انکے ڈنڈے تو ڑ دیئے گئے۔انکی ناف میں تیر مارے گئے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔يُبَاهُونَ مِرِّيحِيْنَ جَهْلًا وَّ نَخْوَةً وَسَوْفَ تَرَاهُمْ مُّدْبِرِينَ فَتُبْشِرُ وہ جہالت اور غرور سے مٹکتے ہوئے فخر کرتے ہیں اور جلد ہی تو ان کو پیٹھ پھیر نے والا پائے گا سو تو خوش ہو جائے گا۔فِدَالكَ رُوحِي يَا حَبِيبِي وَسَيِّدِى فِدَالكَ رُوحِي أَنْتَ وَرُدٌ مُّنَضَّرُ میری روح تجھ پر قربان ! اے میرے پیارے اور میرے سردار ! میری جان تجھ پر فدا ہو۔آپ تو تر و تازہ گلاب ہیں۔۱۶۶