کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 279

کرامات الصادقین — Page 73

كرامات الصادقين ۷۳ اُردو ترجمہ كَعَيْنِ كَحِيلٍ زُيِّنَتْ صَفَحَاتُهُ بِنَاظِرَةٍ مِّنْ عِيْن خُلْدِ يَنظُرُ سرمگین آنکھ کی طرح اسکے صفحات مزین کئے گئے ہیں وہ ( قرآن ) جنت کی بڑی آنکھوں والی حوروں کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔طَرِيٌّ طَلَاوَتُهُ وَلَمْ تَعُفُ نُقْطَةٌ لِمَا صَانَهُ اللهُ الْقَدِيرُ الْمُوَقِّرُ اسکی تر و تازگی ہمیشہ ہی شاداب ہے اور اسکا ایک نقطہ بھی نہ مٹ سکا کیونکہ عزت بخش اور قدیر خدا نے اسکی حفاظت فرمائی ہے۔فَيَا عَجَبًا مِنْ حُسْنِهِ وَجَمَالِهِ أَرَى أَنَّهُ دُرِّ وَّ مِسْكٌ وَّعَنُبَرُ پس اس کا حسن اور جمال کیا ہی عجیب ہے۔میں تو اس کو موتی۔کستوری اور عنبر ہی پاتا ہوں۔وَ إِنَّ سُرُورِى فِى إِدَارَ وَكَأْسِهِ فَهَلْ فِي النَّدَامَى حَاضِرٌ مَّنْ يُكَوِّرُ اور میری خوشی تو اس کے پیالہ کو گر دش میں لانے میں رہی ہے۔کیا ہم مجلسوں میں کوئی ہے جو بار بار لے؟ وَرَيَّاهُ قَدْ فَاقَ الْحَدَائِقَ كُلَّهَا نَسِيمُ الصَّبَا مِنْ شَأْنِهِ تَتَحَيَّرُ اور اس کی خوشبو تمام باغوں پر فوقیت لے گئی ہے باد نسیم بھی اس کی شان سے حیران ہو رہی ہے۔إِذَا مَا تَلَا مِنْ آيَةٍ طَالِبُ الْهُدَى يَرَى نُوْرَهُ يَجْرِى كَعَيْنٍ وَّ يَمْطُرُ جب ہدایت کا طالب اس کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اس کے نور کو چشمے کی طرح بہتا ہوا پاتا ہے اور برستا ہوا بھی۔وَفِيهِ مِنَ اللهِ اللَّطِيفِ عَجَائِبُ أَشَاهِدُهَا فِي كُلّ وَقْتٍ وَّ اَنْظُرُ اور اس میں خدائے لطیف کے عجائبات ہیں جنہیں میں ہر وقت مشاہدہ کرتا اور دیکھتا ہوں۔ا يَعْجَبُ مِنْ هَذَا سَفِيةٌ مُّشَرَّدٌ وَالْهَاهُ عَنْ نُورٍ ظَلَامٌ مُّكَدَّرُ کیا کوئی دھتکارا ہوا نا دان اس سے حیران ہوتا ہے جبکہ گہری تاریکی نے اسے نور سے غافل کر دیا ہے۔ܬܪܙ