کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 279

کرامات الصادقین — Page 271

كرامات الصادقين ۲۷۱ اُردو ترجمه لم تحيطوا بها وعنفتمونی علی اور جس کی حقیقت تم نہ جان سکے اس پر تم مجھ سے مالم تعلموا حقیقته و کنتم شدت اور سختی سے پیش آئے اور تم بڑے آرام تضحكون على مرتاحين۔و کم سے میرا مذاق اڑاتے تھے اور کتنے ہی ڈول میں من دلو أدليتها إلى أنهاركم لعلی نے تمہاری نہروں میں ڈالے تا کہ شاید میں أجد قطرة من علمكم و أخباركم تمہارے علم اور حقائق کا کوئی قطرہ حاصل کر ولكنها لم ترجع ببلةٍ ولم تجتلب سکوں۔لیکن وہ گیلے ہو کر بھی نہ لوٹے اور اتنا بھی نَقْعَ غُلّةٍ وما زادنی سُولی منکم نہ لائے جس سے پیاس بجھ سکے۔اور تم سے غير يأس وقنوط و دُرَخُمِین سوال کرنے نے مجھے پاس وقنوطیت اور رنج میں فاسترجعت على انقراض العلم ہی بڑھایا۔پس میں نے علم کے ختم ہونے اور و دروسه وأفول أقماره و شموسه مٹ جانے اور اس کے چاندوں اور سورجوں وذرفت عینای علی حال قوم فيه کے غروب ہو جانے پر انا للہ پڑھا اور میری تلك العلماء الذين هم معروق آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔اس قوم کے حال العظم والمبعدون من أسرار پر جس میں ایسے علماء ہیں جو ( دیدنی لحاظ سے) الدين۔ومع ذلك وجدت كل علم سے عاری اور دین کے اسرار سے دور ہیں اور واحد منكم سادرًا فى غلوائه باوجود اس کے میں نے تم ( علماء) میں سے ہر ایک وسادلا ثوب خيلائه ومُفارِقًا کو اپنے غلو میں بڑھا ہوا، تکبر کا لبادہ اوڑھے، حیاء من أرجاء حيائه ومن أكابر سے بالکل عاری اور بڑے مفسدوں میں سے پایا۔المفسدين۔فلما انسرث جلباب پس جب تمہاری حیاء کی چادریں اتر گئیں اور حفر كم وأماطت جذبات النفس جذبات نفسانیہ نے تمہاری بنجر زمین کی رہی سہی خضراء قَفْرِ کم و تواترث ريحُ روئیدگی بھی مٹادی اور تمہاری بد بودار ہوا مسلسل دَفْرِكم فهمتُ أن النصح لا يأخذ چلنے لگی تو میں سمجھ گیا کہ تمہیں نصیحت کا کوئی فائدہ فيكم ولا ينفعكم قول ناصح | نہیں اور نہ کسی ناصح کا قول تمہیں نفع پہنچا سکتا ہے ۳۶۳