کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 279

کرامات الصادقین — Page 249

كرامات الصادقين ۲۴۹ اُردو ترجمه وأكفَرَه قومٌ جَهول وظالم وكذبه مَن كان فَظًّا ومُلحِدا اور انتہائی جاہل، ظالم قوم نے آپ کی تکفیر کی اور ہر سخت بدخلق اور محمد شخص نے آپ کی تکذیب کی۔وهذا على الإسلام إحدى المصائبِ يُكَفِّرُ مَن جاء النبيَّ مُؤيّدا اسلام پر نازل ہونے والی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ ہے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا موید بن کر آیا ہے اسے کا فرقرار دیا گیا ہے۔أفِي الْقَوْمِ تُمُدَحَ يَا مُكَفِّرَ صَادِقٍ ألا إن أهل الحق سموك مُفندا اے صادق کی تکفیر کرنے والے! کیا قوم میں تیری تعریف کی جائے گی۔غور سے سن ! اہل حق نے تیرا نام پاگل رکھا ہے۔نَبَذْتَ هُدَى العرفان جَهلا وبعده أخذت طريقًا قد دعاك إلى الرَّدى تو نے جہالت کی وجہ سے عرفان کی ہدایت کو پھینک دیا ہے اور اس کے بعد تو نے ایسا طریق اختیار کر لیا ہے جو یقینا تجھے ہلاکت کی طرف بلا رہا ہے۔وإن كنت تسعى اليوم في الأرض مفسدا فتحـرق فـي يـوم النشور مُزوّدا اور اگر چہ آج تو زمین میں مفسر بن کر دوڑتا پھرتا ہے مگر حشر نشر کے دن تو اچھی طرح آگ میں جلایا جائے گا۔ولو قَبْلَ إكفار تفكرتَ ساعةً لَعَمُرى هُـديـتُ وما أبيتَ تبددا اور اگر تکفیر کرنے سے پہلے لمحہ بھر بھی غور کر لیتا تو میری عمر کی قسم ! تو ضرور ہدایت پا جاتا اور پراگندہ خیالی کے سبب انکار نہ کرتا۔قَصَدتَ لتُرضى القومَ مِن سُوءِ نِيَّةٍ وكان رِضَى البارى أتمَّ وأَوْكَدَا تو نے بدنیتی سے لوگوں کو راضی کرنے کا قصد کیا حالانکہ رضاء باری تعالیٰ سب۔کامل اور یقینی ہے۔۳۴۱