کرامات الصادقین — Page 250
كرامات الصادقين ۲۵۰ اُردو ترجمه وما في يديك لَتُبُعِدَنَّ مقربًا إله البرايا قد دناه وأحمدا تیرے پاس ہے کیا کہ تو ایک مقرب کو ( بارگاہ ایزدی سے ) دور قرار دے، جبکہ مخلوق کا معبود خود اس شخص کے قریب ہوا ہے اور اس کی تعریف فرمائی ہے۔وقد كنت تقبل صدقه وكتبته فمِثلُک كُفْرًا ما رأينا ضَفَنَدَدا حالا نکہ قبل ازیں تو اس کی سچائی کو قبول کر چکا ہے اور اسے تحریر کو چکا ہے۔پس تیرے جیسا انکار کرنے والا احمق ہم نے نہیں دیکھا۔ألا إنه قد فاق صدقًا خواصكم دافا رؤوس الصائلين وأَرجَدا راستبازی میں وہ تمہارے خواص پر بھی سبقت لے گیا ہے اور اس نے حملہ کرنے والوں کا سر پھوڑا اور ان پر لرزہ طاری کر دیا۔أتُكفِرُ يا غُولَ البراري مثيله أتَلعَنُ مقبولا يحبّ محمدًا اے غول بیابانی! کیا تو اس کے مثیل کی تکفیر کرتا ہے اور اس مقبول پر لعنت کرتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہے۔وتعالكم يا زُمُر شيخ مزوّرٍ هلكتم وأرداكم وعفا وأفسدا اے دھو کہ باز شیخ کے گروہ ! تمہار ا ستیا ناس۔تم مارے گئے اور اس ( شیخ ) نے تمہیں برباد کر دیا ، مٹا دیا اور بگاڑ دیا۔له كُتُبُ السَّبُ وَالشَّتم حَشُوُها شرير ويستقرى الشرور تعمدا اس ( شیخ) کی کتابیں سب وشتم سے پُر ہیں۔وہ خود شریر ہے اور عمد اشر کی تلاش میں رہتا ہے۔أضل كثيرًا مِن ضلالات وَهُمه وباعد من حق مبين وأبعدا اس نے اپنے گمراہ افکار سے بہتوں کو گمراہ کر دیا۔وہ خود بھی حق مبین ہوا اور دوسروں کو بھی دور کر دیا۔سے دور ۳۴۲