کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 279

کرامات الصادقین — Page 239

كرامات الصادقين ۲۳۹ اُردو ترجمه | أبدا ولا يكون وسيلة للنجاة نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ نجات کا وسیلہ بن سکتا إلا بعد كمال الإخلاص و ہے جب تک انتہائی اخلاص، انتہائی کوشش كمال الجهد و کمال فہم اور ہدایات کے سمجھنے کی پوری اہلیت حاصل نہ الهدايات بل کل خادم ہو جائے بلکہ جب تک کسی خادم میں یہ صفات لا يكون صالحا للخدمات نہ پائی جائیں وہ درحقیقت خدمات کے قابل إلا بعد تحقق هذه الصفات نہیں ہوتا۔مثلاً اگر کوئی خادم مخلص بھی ہے اور مثلا إن كان خادم مخلصا نیک نیتی، امانت ، اخلاص اور پاک دامنی ۱۰۵ وموصوفا بأوصاف الأمانة کی صفات سے متصف بھی ہے لیکن وہ سست والخلوص والعفّة ولكن كان بے ہمت اور ( بیکا ر ) بیٹھ رہنے والوں میں من الكسالى والوانين القاعدین سے ہے یا ہر وقت لیٹے رہنے اور سوئے رہنے وكالضجعة النومة لامن والے شخص کی طرح ہے اور وہ کوشش، أهل السعي والجهد والجد جد و جہد اور ہمت کرنے والوں میں سے نہ ہو والقوة فلا شك أنه گل تو بلا شبہ ایسا خادم اپنے مالک پر ایک بوجھ ہی علی مولاه ولا يستطيع أن يتبع ہوگا۔اور اپنے آقا کی ہدایت کی پیروی نہیں هداه ويكون من المطاوعین کر سکے گا۔اور اس کے فرمانبرداروں میں و خادم آخر مخلص امین شمار نہ ہو سکے گا۔جبکہ ایک اور خادم جو مخلص ذلک مجاهد ولیس بھی ہو۔امین اور دیانت دار بھی ہو اور ساتھ ومع بقاعد كالآخرين ولكنه جهول ہی محنتی بھی ہو اور دوسروں کی طرح بیٹھ رہنے لا يفهم هدایاتِ مخدومه والا نہ ہولیکن بے وقوف ہو اور اپنے آقا کی ويُخطى ذات مرار كالضالین ہدایات کو نہ سمجھ سکتا ہو اور گمراہوں کی طرح فمن جهله ربما يجترء على بار بار غلطیاں کرتا ہو، اپنی جہالت کی وجہ سے الممـنـوعـات ويوقع نفسه في | کئی دفعہ ممنوع کاموں پر جرات کر بیٹھتا ہو، اپنے ۳۳۱