کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 279

کرامات الصادقین — Page 231

كرامات الصادقين ۲۳۱ اُردو ترجمہ ويقول يا رب تسلم وہ یہی دعا مانگتا رہتا ہے کہ اے میرے ربّ قلبی وتکفینی لجذبی میرے دل کو اپنے قبضہ میں محفوظ رکھ۔مجھے اپنی و جلبی ولن يُصبینی حسن طرف کھینچنے اور مائل کرنے کے لئے تو کافی ہو جا الآخرين۔هذه نتائج تمهيد اور کسی اور کا حسن مجھے کبھی فریفتہ نہ کر سکے۔یہ دعاء الفاتحة۔وأما تمهيد سب نتائج دُعائے فاتحہ کی عمدہ تمہید ہیں۔اور دعاء عیسی علیه السلام جہاں تک عیسی علیہ السلام کی دعا کی تمہید کا معاملہ فقد عرفت حقيقته وما فيه ہے اس کی حقیقت کو اور اس (دعا) میں جو آفت من الآفة فلا حاجة إلى پنہاں ہے اسے تو خوب جان گیا ہے۔لہذا اُسے الإعادة فتفكرُ فی ایماضی دوہرانے کی ضرورت نہیں۔پس تو میرے اس وتندم من زمان ماضی و كُنُ اشارے پر غور کر اور گزرے ہوئے زمانے پر نادم من التائبين۔ہوا اور تو بہ کرنے والوں میں شامل ہو جا۔ثم بعد ذلك ننظر إلى پھر اس کے بعد ہم اس دعا پر غور کرتے ہیں جو دعاء علمه عيسى وإلى حضرت عیسی علیہ السلام نے سکھائی اور اس دعا پر دعاء علمه ربنا الأعلى بھی جو ہمارے خدائے بزرگ و برتر نے سکھائی تا ليتبين ما هو الفرق بينهما عقلمند پر واضح ہو جائے کہ ان دونوں کے درمیان لذي النهى ولينتفع به من کیا فرق ہے اور تا جو کوئی بھی نیک لوگوں میں شامل ہے اس فرق سے فائدہ اُٹھائے۔فاعلم أن عيسى عليه السلام پس جان لو کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے جو ۱۰۲ كان من الصالحين۔علم دعاء يتزری علیہ دعا سکھلائی ہے یعنی یہ کہ ہماری روز کی روٹی ہر روز إنصافنا أعنى خُبُزَنا كفافنا ہمیں دیا کر ہمارا انصاف اسے ناقص قرار دیتا وأما القرآن فعاق ذکر ہے۔اس کے برخلاف قرآن کریم نے (اپنی) الخبز والماء في الدعاء | دعا میں روٹی اور پانی کا ذکر کرنا ناپسند کیا ہے اور ۳۲۳