کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 279

کرامات الصادقین — Page 230

كرامات الصادقين ۲۳۰ اُردو ترجمه الموبقات فیکابد في رضا کی تلاش میں ہر قسم کے مصائب کو برداشت ابتغاء مرضاته كل المصائب کرتا ہے۔چاہے وہ نشانہ پر لگنے والے تیر سے قتل ولو قتل بالسهم الصائب کیوں نہ کر دیا جائے رنج و غم اسے بے بس نہیں کر ولا يعجزه الكروب و سکتے۔اور نہ وہ جانتا ہے کہ تھکان کیا ہوتی ہے لا يدرى ما اللغوب ويجذبه خدائے محبوب اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور بندہ المحبوب ويعلم أنه هو جانتا ہے کہ وہی (اس کا) مطلوب ہے۔اس کے المطلوب وييسر له لئے اپنے مالک کی رضا حاصل کرنے کے راستوں استقراء المسالك لتطلب کی تلاش آسان ہو جاتی ہے لہذا وہ اس کی (طرف مرضاة المالک فیجاهد لے جانے والی ) راہوں میں پوری کوشش کرتا ہے في سبلــه ولـو صـار کالهالک خواہ وہ ہلاک کیوں نہ ہو جائے۔اور وہ کسی ولا یخشی هول بلاء آزمائش کے خوف سے نہیں ڈرتا۔بلکہ ہر ابتلا وینبری لکل ابتلاء و کے لئے سینہ سپر ہو جاتا ہے اور اس کے لئے لا يبقى له من دون حبه اس کی محبت کے تذکرہ کے سوا اور کوئی ذکر باقی الأذكار ولا تستهويه الأفكار نہیں رہتا۔دوسرے افکار اُسے فریفتہ نہیں وينزل من مطية الأهواء کرتے اور وہ خواہشات کی سواری سے اُتر پڑتا ليمتطي أفراس الرضاء ہے تا وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے گھوڑوں پر سوار ہو ويَضْفِر أَزِمَةَ الابتغاء اور وہ جستجو کی باگیں بنتا ہے تا وہ خدا کے حضور ليقطع المسافة النائية پہنچنے کے لئے دُور کی مسافت طے کر لے اور وہ لحضرة الكبرياء ويظل ہمیشہ اس کے قرب میں رہتا ہے۔اور اپنے أبدا له مُدانِیا ولا يجعل پیاروں میں سے کسی کو بھی اس کا ثانی نہیں بناتا لـــــه ثـــانيـــا مــن الأحبّاء و اور اس کا دل (خدا کے ) شریکوں (یعنی لا يعتور قلبه بين الشركاء معبودان باطلہ ) کے درمیان بھٹکتا نہیں پھرتا۔۳۲۲