کرامات الصادقین — Page 229
كرامات الصادقين ۲۲۹ اُردو ترجمه → كالمشوق ويضطرم فيهم هوى اُن کے اندر (اپنے ) معشوق کی محبت کی آگ المعشوق فلا يناقش أهواء بھڑک اُٹھتی ہے۔پس ربّ العالمین کی محبت (101 خرى عند غلبة هوارت کے غلبہ کے وقت دوسری خواہشات اس کے الـعـالـمـيـن۔فثبت أن فى تمهید مزاحم نہیں ہوتیں پس ثابت ہوا کہ اس دعا کی هذا الدعاء تحریکا عظیماً تمہید میں عبادت کرنے والوں کے لئے ایک زبر دست تحریک ہے۔للعابدين۔فإن العبد إذا تدبّر في صفات جب انسان خدا تعالیٰ کی ان صفات پر تدبر کرتا جعلها الله مقدّمة لدعاء الفاتحة ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورت فاتحہ کی دعا میں وعلم أنها مشتملة على صفات مقدم رکھا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے كماله ونُعوت جلاله باستيفاء کمال اور اس کے جلال کی تمام صفات اور تناؤں الإحاطة ومحركة لأنواع الشوق پر مشتمل پورے طور پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔اور ہے۔اور والمحبة وعلم أن ربه مبدأ ہر قسم کے شوق اور محبت کے لئے محرک ہے اور یہ لجميــع الفيوض و منبع لجمیع بھی جان لیتا ہے کہ اس کا رب تمام فیوض کا الخيرات ودافع لجميع الآفات سرچشمه، تمام بھلائیوں کا منبع ، تمام آفات کو دُور ومالك لكل أنواع المجازات کرنے والا اور ہر قسم کی جزا سزا کا مالک ہے نیز یہ منه يبدأ الخلق وإليه يرجع كل كه ( مخلوق کی ) پیدائش اسی سے شروع ہوئی ہے المخلوقات وهو منزه عن اور آخر کار تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹائی جائیں العيوب والنقائص والسيئات گی۔اور وہ عیوب ونقائص اور بُرائیوں سے پاک ومستجمع لسائر صفات ہے اور تمام صفات کمال اور ہر قسم کی خوبیاں اس اور الكمال وأنواع الحسنات فلا میں جمع ہیں۔تب انسان لازماً اللہ تعالیٰ کو ہی تمام شك أنه يحسبه مُنجِحَ جميع ضرورتوں کا پورا کرنے والا اور تمام ہلاکتوں سے الحاجات ومُنجِيًا من سائر نجات دینے والا یقین کر لیتا ہے۔اور اس کی ۳۲۱