کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 279

کرامات الصادقین — Page 160

كرامات الصادقين 17۔اُردو ترجمه بمثـالـه والانصباغ بصبغه اختیار کرنا۔اس کے رنگ سے رنگین ہونا اور فانی والخروج من النفس والأنانية فى اللہ لوگوں کی طرح نفسانیت اور انانیت سے كالفانين۔وسرُّه أن العبد الگ ہو جانا عبادت کی حقیقت ہے۔اس میں راز قد خُلق كالمريض و العلیل یہ ہے کہ انسان کو بیمار اور روگی اور پیاسے کے مثل والعطشان وشفاؤه و تسکین پیدا کیا گیا ہے۔اور اس کی شفا، اس کی پیاس کی غُلته وإرواء كبده في تسکین اور اس کے جگر کی سیرا بی اللہ تعالیٰ کی ماء عبادت الله فلا يبرأ عبادت کے پانی سے ہوتی ہے۔وہ تبھی صحت مند ولا يرتـــوى إلا إذا يَثنى اور سیراب ہو سکتا ہے۔جب وہ اللہ کی طرف اپنا إليه انصبابه ويُفرط صبابه رُخ موڑ لیتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے عشق کو ويسعى إليه كالمستسقين۔بڑھاتا ہے اور وہ اس ( معبود حقیقی ) کی طرف پانی ولا يطهر قریحه ولا یلبد کے طالبوں کی طرح دوڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عجاجته ولا يُحلّى مُجاجَتَه ذکر کے سوا کوئی چیز نہ تو اس کی فطرت کو پاک کر إلا ذكر الله الا بذکر الله سکتی ہے نہ اس کے غبار خاطر کو مجتمع کر سکتی ہے۔تطمئن قلوب الذین یعبدون اور نہ اس کے منہ کا ذائقہ شیریں بنا سکتی ہے۔الله ويأتونه مسلمین سنو! اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان ہی لوگوں کے دل آية إِيَّاكَ نَعْبُدُ مطمئن ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے إقرار لمعبودية الله الذي ہیں اور اس کے حضور فرمانبردار بن کر آتے ہیں۔هو مستجمع بجميع پس آیت مبارکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں اللہ تعالیٰ صفات الكاملية ولذلک کی معبودیت کا اعتراف ہے جو مجمع جمیع صفاتِ وقعت هذه الجملة تحت کاملہ ہے اور اسی لئے یہ جملہ (ايَّاكَ نَعْبُدُ ) جملة الحَمدُ للهِ فانظر اَلْحَمْدُ لِلہ کے جملہ کے تحت ہے۔پس تو غور کر اگر تو غور کرنے والوں میں سے ہے۔ــــفى إن كنت من الناظرين۔۲۵۲