کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 279

کرامات الصادقین — Page 161

كرامات الصادقين ۱۶۱ اُردو ترجمه وثانيها بحرُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ان میں سے دوسرارَبُّ الْعَالَمِینَ کا سمندر وتغترف منها جملةُ إِيَّاكَ ہے۔اور اس سے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا جملہ نَسْتَعِينُ۔فإن العبد إذا مستفیض ہوتا ہے کیونکہ بندہ جب یہ بات سنتا 24 سمع أن الله يُربّی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی پرورش کرتا ہے العالمين كلها ومامن اور ایسا کوئی عالم نہیں جس کا وہ مرتی نہ ہو اور وہ عالم إلا هـو مـربيــه ورأى (بندہ) اپنے نفس کو بدی کا حکم دینے والا دیکھتا نفسه أمارة بالسوء ہے تو وہ گریہ وزاری کرتا ہے اور مجبور ہو کر اس فتضرع واضطر والتجا کے دروازہ کی طرف پناہ ڈھونڈتا ہے۔اس إلى بـابـه وتـعـلّـق بأهدابه کے دامن سے لپٹ جاتا ہے اور اس کے و دخل فـــی مــــادبــــه آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی (روحانی) اية آدابه لیدر که ضیافت گاہ میں داخل ہو جاتا ہے تا وہ (پاک لربوبية ويحسن إليه سن إليه ذات اپنی ربوبیت سے اس کی دستگیری کرے ) هو خيــر الـمـحسنین اور اس پر احسان فرمائے اور وہ بہترین احسان فـــــــــإن الربوبية صفة ربية صفة کرنے والا ہے۔پس ربوبیت ایک ایسی صفت تعطى كل شيء خَلَقَہ ہے جو ہر چیز کو اس کے وجود کے مناسب حال المطلوب لوجوده ولا يغادره خلق عطا کرتی ہے۔اور اس کو ناقص حالت میں نہیں رہنے دیتی۔كالناقصين۔وثالثها بحر اسم الرَّحْمَنِ ان میں سے تیسرا الرحمن کا سمندر ہے وتغترف منه جملةُ اهْدِنَا اور اس سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا جملہ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ليكون العبد سیراب ہوتا ہے تا انسان ہدایت اور رحمت پانے من المهتدين المرحومين فإن والوں میں ہو جائے کیونکہ صفت رحمانیت ہراُس الرحمانية تُعطى كل ما يحتاج وجود کو جو صفت ربوبیت سے تربیت پاچکا ہے وہ ۲۵۳