کرامات الصادقین — Page 145
كرامات الصادقين ۱۴۵ اُردو ترجمه أفعاله الموجودة فی طبقات لئے آئینہ بنایا ہے تا اس سے عارفوں کے دل الأنام لتطمئن به قلوب العارفين۔تستی پائیں۔ان صفات فیضائیہ کی دوسری والقسم الثاني من الصفات قسم وہ صفت ہے جس کا نام ہما را پر ور دگار الفيضانية صفة يسمّيها ربُّنا اَلرَّحْمن رکھتا ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم الرحمن۔ولا بد من أن نسمّى بھی اس ( صفت ) کے فیضان کو فیضانِ عام فيضانه فيضانا عاما ورحمانية اور رحمانیت کے نام سے پکاریں۔اس کا وله مرتبةً بعد مرتبة مرتبه فيضان اعم ( ربوبیت ) کے بعد ہے الفيضان الأعم وهو أخص اور اس فیضان کا دائرہ عمل اُس پہلے فیضان من الفيضان الأول ولا ينتفع سے اخص ہے اور اس سے آسمان اور منه إلا ذوو الروح من أشياء زمینوں کی صرف جاندار اشیاء ہی نفع حاصل السماء والأرضين۔وإن الله کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے اس فیض کے في وقت هذا الفيض لا ينظر وقت کسی خاص حق ، عمل اور شکر کو نہیں دیکھتا الاستحقاق والعمل والشكر بلکہ وہ محض اپنے فضل سے ہر ذی روح پر اس بل يُنزله فضلا منه على كلّ فیضان کو نازل فرماتا ہے چاہے وہ انسان ہو ذی روح إنســـــانــــا كـــان أو یا حیوان۔دیوانہ ہو یا عاقل، مومن ہو یا حيوانًا مجنوناً كان أو عاقلا کافر، اور ہر روح کو اُس ہلاکت سے بچاتا مؤمنًا كان أو كافرًا ويُنجى كلَّ ہے جو اس کے قریب پہنچ چکی ہو اور وہ روح من هلكة دانت منها بعد (روح) اس میں گرنے ہی لگی ہو اور ہر ما كادت تهوى فيها ويُعطى شے کو ایسی شکل وصورت عطا کرتا ہے جو كل شيء خَلقًا ينفعه لأن الله اس کے لئے مفید ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ جواد بالذات وليس بضنين۔بالذات سخی ہے اور ہر گز بخیل نہیں اور جو کچھ فكل ما ترى في السماء من تمہیں آسمان میں نظر آتا ہے مثلاً ۲۳۷