کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 279

کرامات الصادقین — Page 144

كرامات الصادقين ۱۴۴ اُردو ترجمه وكل ما يوجد في الرشيدين صاحب رشد لوگوں میں پائی جاتی ہے اسی فیض وكل شقى وسعید و طيب ربوبیت پر موقوف ہے۔اور ہر بد بخت و نیک بخت وخبيث يأخذ حَظَّه كما شاء ربُّه اور پاک و نا پاک اپنا حصہ اسی طرح پاتا ہے۔جس في المرتبة الربوبية فهذا الفيض طرح اس کے رب نے اپنے مرتبہ ربوبیت میں يجعل من يشاء إنسانًا ويجعل من اس کے لئے چاہا۔پس یہ فیضان جسے چاہے انسان يشاء حمارًا ويجعل ما يشاء بنا دیتا ہے اور جسے چاہے گدھا بنا دیتا ہے۔جس نحاسا ويجعل ما يشاء ذهبا و ما چیز کو چاہے پیتل بنا دیتا ہے اور جسے چاہے سونا بنا كان الله من المسؤولين دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔واعلم أن هذا الفيض جار على اور یہ بھی واضح ہو کہ یہ فیضان لگا تار پورے کمال الاتصال بوجه الكمال ولو فرض کے ساتھ جاری ہے اور اگر ایک لحظہ کے لئے بھی انقطاعه طرفة عين لفسدت اس کا انقطاع فرض کر لیا جائے تو زمین و آسمان اور السماوات والأرض وما فيهن ان كى موجودات تباہ و برباد ہو جائیں۔لیکن یہ ولكن أحاط صحيحًا و مريضًا فیضان ہر تندرست اور مریض، بلندی اور پستی، ويفاعًا وحضيضا و شجرا درخت اور پتھر اور جو کچھ سب جہانوں میں ہے وحجرًا وكل ما فی العالمین سب پر محیط ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں وقدم الله هذا الفيض في كتابه اس فیض کو سب سے پہلے اس لئے بیان فرمایا کہ وضعا لتقدمه فى عالم أسبابه عالم اسباب میں وہ طبعا تتقدم رکھتا ہے۔پس یہ طبعا فليس هذا التقديم محدودًا تقديم محض کلام کو سجانے اور سلاست و روانی کے في توشية الكلام و محصورا فی پیش نظر ہی نہیں بلکہ اس میں تو حکیمانہ بلاغت رعاية الصفاء التام بل هي بلاغة سے نظامِ کا ئنات کو دکھا نا مقصود ہے کیونکہ حكمية لإراءة النظام من حيث اللہ تعالیٰ نے اپنے اقوال کو مخلوق کے مختلف إنه تعالى جعل أقواله مرآة لرؤية طبقات میں موجود اپنے افعال کے دکھانے کے ۲۳۶