کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم)

by Other Authors

Page 48 of 59

کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 48

90 00 89 اگر سفر میں کسی کے ہاں مہمان ٹھہر نا ہو تو اسے بر وقت اطلاع دیں۔جمہ سفر میں اپنے سامان سے غافل نہ رہیں۔اگر ہو سکے تو گھر میں سفر سے اپنی واپسی کی اطلاع بھجوائیں۔جب سفر سے لوٹیں تو یہ دعا پڑھیں۔ائِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ترجمہ: ہم لوٹنے والے ہیں تو بہ کرنے والے ہیں۔عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کا حمد وشکر کرنے والے ہیں۔سفر پر روانہ ہونے سے قبل اپنے تمام سامان پر نام اور مقام کی چٹیں لگائیں اور سامان کو گن کر نوٹ بک میں درج کریں۔بغیر ٹکٹ کے سفر نہ کریں نیز کم درجے کا ٹکٹ لے کر اوپر کے درجہ میں سفر نہ کریں۔سفر میں کسی کو نہ بتا ئیں کہ آپ کے پاس کتنی رقم ہے اور کہاں رکھی ہے۔چوروں اور جیب تراشوں سے ہوشیار رہیں۔انجام فرصت ہے کسے جو سوچ سکے پس منظر ان افسانوں کا کیوں خواب طرب سب خاک ہوئے کیوں خون ہوا ارمانوں کا تاریخ کے سینے میں اب تک ہیں دفن وہ سارے ہنگامے انسان کے ہاتھوں دنیا میں کیا حال ہوا انسانوں کا طاقت کے نشے میں چور تھے جو توفیق نظر جن کو نہ ملی نہ مجھے مفہوم وہ ناداں قدرت کے لکھے فرمانوں کا پیستے ہیں بالآخر وہ اک دن اپنے ہی ستم کی چکی میں انجام یہی ہوتا آیا فرعونوں کا ہامانوں کا کم مایہ ہیں پر قدرت نے ہمیں احساس کی دولت بخشی ہے ہر آنکھ سے آنسو پونچھیں گے دکھ بانٹیں گے انسانوں کا جب زخم لگیں تو چہروں پر پھولوں کا تبسم لہرائے فرزانوں کا اتنا ظرف کہاں حوصلہ ہے دیوانوں کا اے صبرو رضا کے متوالو! اٹھو تو سہی دیکھو تو سہی طوفان کے مالک نے آخر رخ پھیر دیا طوفانوں کا سونے چاندی کی ہوتا ہے ضمیروں کا سودا جھنکار اس راہ ہر سو اس دور خرابی میں یارو خطرہ ہے بہت ایمانوں کا اب آئے جو یار کی محفل میں جاں رکھ کے ہتھیلی پر آئے پہرہ ہے کم فہموں کا نادانوں کا ہم دین ہدی کے پرچم کو اونچا ہی اڑاتے جائیں گے جو طوفانوں کے پالے ہوں کیا خوف انہیں طوفانوں کا www۔alislam۔org