کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم)

by Other Authors

Page 49 of 59

کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 49

92 91 آندھی کی طرح جو اٹھے تھے اب گرد کی صورت بیٹھے ہیں ہے میری نگاہوں میں ثاقب انجام بلند ایوانوں کا ی نظم جلسہ سالانہ 1977ء میں پڑھی گئی۔( ثاقب زیروی) فارسی اشعار حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا که خود سوزد آن کرم دنی را باشد عدوان از خدا تعالیٰ اس ذلیل کیڑے کو خود ہی تباہ کر دے گا جو محمد ﷺ کا دشمن ہو۔دریں ره گر گشندم نتابم رو ز ور ایوان بسوزند اس راہ میں خواہ مجھے قتل کیا جائے خواہ جلایا جائے۔میں محمد ﷺ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا۔بکار دیں نترسم رنگ دارم از جہانے ایمان دین کے کام میں سارے جہاں کے لوگوں سے بھی نہیں ڈرتا۔کیونکہ مجھ پر محمد لہ کے ایمان کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔الا بترس دشمن نادان اے ہے راه از شیخ بُران محمد اے نادان اور گمراہ دشمن ہوش میں آ محمد ﷺ کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر جا۔(اشتہار 20۔فروری 1886 ء ) اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کا خر کنند دعوئے اے دل تو ان لوگوں کا (جو اس وقت میری مخالفت کر رہے ہیں ) لحاظ رکھ کہ آخر وہ میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد متخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم خدا کے بعد میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں سرشار ہوں اگر کفر یہی ہوتا ہے تو خدا کی قسم میں سخت کا فر ہوں۔الله جانم فدا شود دین مصطفی ام بره صلى الله این است کام دل اگر آید میرم میری جان مصطفی ﷺ کے دین کی راہ میں فدا ہو جائے یہ ہے میرا دلی مقصد خدا کرے پورا ہو۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 185 ) بہر أو باشیر شد اندر بدن جان شد و با جان بدر خواهد شدن اس کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ ہمارے اندر داخل ہوگئی ہے اور ہماری جان بن گئی ہے اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی۔اقتدائے ہر چہ رو قول أو در جان ماست ماست ثابت شود ایمان اس کے ہر قول کی پیروی کرنا ہماری فطرت میں شامل ہے۔اور ہر چیز جو اس سے ثابت ہے وہ ہمارا ایمان ہے۔(ضمیمہ سراج منیر۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 95) www۔alislam۔org