کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 26 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 26

46 45 رکھی جائے۔مثلاً اگر یہ شبہ ہو کہ میں نے تین رکعت پڑھی ہیں یا چار اور کوئی فیصلہ نہ ہو سکے تو یہ سمجھا جانا چاہئے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں اور چوتھی رہتی ہے۔نماز کی اقسام اور ان کی رکعات اللہ تعالیٰ نے جو نماز مقرر کی ہے اس کی چار اقسام ہیں۔ا۔فرض ۲۔واجب ۳۔سنت ۴ نفل فرض نماز پانچ نماز میں فرض ہیں۔فجر کی دورکعت۔ظہر کی چار رکعت۔عصر کی چار رکعت۔مغرب کی تین رکعت اور عشاء کی چار رکعت۔ان میں سے اگر کوئی نماز سہوارہ جائے تو اس کی قضاء ضروری ہوگی اور اگر کوئی عمداً چھوڑ دے تو وہ سخت گناہگار ہوگا۔واجب نماز وتر کی تین رکعت۔عیدالفطر اور عیدالاضحیہ ہر ایک کی دو دو رکعت۔طواف بیت اللہ کی دورکعت۔ان میں سے اگر کوئی عمدا چھوڑ دے تو وہ گنہ گار ہوگا۔البتہ اگر سہؤارہ جائے تو قضاء ضروری نہیں ہوگی۔نذر مانی ہوئی نماز کا ادا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔فرض نماز کے علاوہ جو نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بالعموم پڑھی سنت نماز ہے اور جس کا احادیث میں ذکر موجود ہے۔اس نماز کو سنت کہتے ہیں۔یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق اور آپ ﷺ کی روش پر چلتے ہوئے یہ نماز پڑھنا اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔تارک السنت قابل سرزنش ہے۔سنت نماز یہ ہے:۔فجر کی دوسنتیں فرض نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہیں اور اگر کوئی شخص جماعت میں شامل ہو جائے یا کسی اور وجہ سے فرضوں سے پہلے نہ پڑھ سکے تو فرضوں کے معا بعد پڑھ لے کیونکہ ان کے ادا کرنے کی بہت تاکید بیان ہوئی ہے۔ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت اور فرضوں کے بعد دو رکعت۔مغرب اور www۔alislam۔org عشاء کے فرضوں کے بعد دود ورکعت نما ز سنت ہے۔نفل نماز اس نماز کے پڑھنے سے ثواب ملتا ہے۔قرب الہی میں ترقی نصیب ہوتی ہے تا ہم اگر کوئی یہ نماز نہ پڑھے تو کوئی گناہ نہیں ہوتا۔مندرجہ ذیل نمازیں نفل ہیں :۔تہجد آٹھ رکعت (دو دو رکعت کر کے پڑھنا) اشراق یعنی چاشت ( کی چار رکعت تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد ( یعنی وضو کے بعد یا مسجد میں داخل ہونے پر دو رکعت نماز پڑھنا )۔استخارہ یعنی طلب خیر کیلئے دو رکعت نماز۔دو رکعت صلوٰۃ الحاجت۔دو رکعت تحیۃ الشکر۔خوشی کے موقع کے مطابق دو رکعت نماز نفل موجب ثواب و برکت ہے۔اس کے علاوہ اوقات مکروہہ کے سوا جب موقع ملے اور دل کرے دو نفل نماز پڑھنا باعث ثواب ہے۔نوافل اصولاً گھر میں پڑھنے چاہئیں۔اس سے ثواب بڑھ جاتا ہے۔سنن اور نوافل فرائض کی تکمیل کرتے ہیں۔یعنی فرائض کی ادائیگی میں اگر کوئی غلطی یا کمی رہ گئی ہو تو اس کی تلافی سنتوں اور نوافل سے ہو جاتی ہے نیز نوافل ایمان کے استحکام کا بھی موجب بنتے ہیں۔نماز جمعہ نماز جمعہ ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے نابالغ، مریض، مسافر عورت اور غلام کے۔قرآن مجید میں ہے کہ جب جمعہ کی نماز کیلئے بلایا جائے تو سب کام چھوڑ کر جلدی سے آ جاؤ اور جب نماز ادا کر چکو تو زمین میں پھیل جاؤ۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل ڈھونڈو۔حدیث شریف میں ہے کہ جمعہ کے دن طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ اس وقت دعا قبول ہو جاتی ہے۔پھر جمعہ کے دن جس کو نماز جمعہ نماز جنازہ خطبہ نکاح اور کسی بیمار کی عیادت کی توفیق نصیب ہو تو اس کو جنت کی خوشخبری ہو۔جمعہ وعیدین کیلئے غسل کرنا واجب ہے صاف کپڑے پہنا اور خوشبو لگانا سنت ہے۔