کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 25
44 43 طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔سورۃ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں بڑی اور دوسری رکعت میں نسبتاً چھوٹی سورۃ پڑھنا۔مقتدی کیلئے آمین بلند آواز اور حمید آہستہ آواز سے کہنا۔۵۔مکروہات نماز یعنی ایسی باتیں جن کا نماز میں کرنا ناپسندیدہ ہے اور وہ یہ ہیں۔نماز پڑھتے وقت ہاتھ آستین کے اندر رکھنا۔کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنا یا آسمان کی طرف دیکھنا۔آنکھیں بند رکھنا۔ننگے سر نماز پڑھنا۔سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا رخ بلا عذر قبلہ کی طرف نہ کرنا۔بھوک لگی ہو اور دستر خوان بچھ گیا ہو تو اس حالت میں نماز پڑھنا۔بیت الخلاء جانے کی حاجت کے باوجود نماز پڑھتے رہنا۔قبرستان میں قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا۔ایسا تنگ لباس پہننا کہ جس میں آسانی سے رکوع اور سجدہ نہ ہو سکے۔ایک ٹانگ پر کھڑے ہونا اور دونوں پاؤں پر یکساں بوجھ نہ ڈالنا۔نماز ایسے ماحول میں نہیں پڑھنی چاہئے جو صفائی کے اعتبار سے اُس کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو مثلاً بکریوں کے باڑہ اصطبل یا بازار میں جہاں شور وغل ہو۔کھلی جگہ میں سترہ رکھے بغیر نماز پڑھنا کسی کے سوال یا سلام کے جواب میں سر ہلا نا۔قرآت میں قرآن کریم کی ترتیب کو بدلنا۔مثلاً پہلی رکعت میں بعد کی اور دوسری رکعت میں پہلی سورتیں پڑھنا۔سجدہ میں ہاتھ سر کے نیچے رکھنا۔سجدہ میں پیٹ ران سے لگا نا۔سجدہ میں بازو زمین پر پھیلانا۔رکوع اور سجدہ میں قرآنی آیت پڑھنا اور نماز با جماعت کی صورت میں امام سے پہلے حرکت کرنا۔نمازی کے سامنے سے گزرنے والا گناہگار ہے لیکن اس سے نماز پڑھنے والے کی نماز میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔نمازیوں کے سامنے سے ایک صف کا فاصلہ چھوڑ کر انسان گزرسکتا ہے۔6◉ www۔alislam۔org یعنی ایسی باتیں جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور نماز کا دوبارہ پڑھنا مبطلات نماز ضروری ہو جاتا ہے۔یہ باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔نماز کی کسی شرط کو چھوڑ دینا یا دورانِ نماز اس کا باقی نہ رہنا۔مثلاً وضو کا ٹوٹ جانا یا ستر کا کھل جانا۔نماز کے کسی رکن یا واجب حصہ کو بلا عذر جان بوجھ کر چھوڑ دینا۔نماز میں عمدا کسی سے بات کرنا یا زبان سے سلام کا جواب دینا یا کھل کھلا کر ہنس پڑنا۔منہ موڑ کر اِدھر اُد ہر دیکھنا۔نماز میں کھانا پینا۔بلاضرورت زیادہ اور بار بار حرکت کرنا۔سجدہ سہو نماز میں اگر کسی سے ایسی غلطی سرزد ہو جس سے نماز میں شدید نقص پڑ جائے۔مثلاً سہؤ ا فرض کی ترتیب بدل جائے یا کوئی واجب جیسے درمیانی قعدہ رہ جائے یا رکعتوں کی تعداد میں شک پڑ جائے تو اس غلطی کے تدارک کیلئے دو زائد سجدے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔یہ سجدے نماز کے آخری قعدہ میں تشہد۔درود شریف اور دعاؤں کے بعد کئے جاتے ہیں جب یہ آخری دعا ختم ہو جائے تو تکبیر کہہ کر دو سجدے کئے جائیں اور ان میں تسبیحات سجدہ پڑھی جائیں۔اس کے بعد بیٹھ کر سلام پھیرا جائے۔سجدہ سہو کرنے سے دراصل اس اقرار کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ بھول چوک اور ہر قسم کے نقص سے صرف رب العزت کی ذات پاک ہے۔انسان کمزور ہے اس کی اس غلطی سے درگذر فرمایا جائے اور اس کے بدنتائج سے اسے بچایا جائے۔امام اگر ایسی غلطی کرے جس سے سجدہ سہوضروری ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ مقتدیوں کیلئے بھی سجدہ سہو کرنا ضروری ہوگا۔لیکن اگر صرف مقتدی سے ایسی کوئی غلطی ہو تو امام کی اتباع کی وجہ سے اس کی یہ غلطی قابل مؤاخذہ نہیں ہوگی اور اس کے لئے سجدہ واجب نہیں ہوگا۔اگر رکعتوں کی تعداد یا کسی اور رکن کے ادا کرنے میں شبہ پڑ جائے تو یقین پر بنیاد