کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 35 of 41

کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 35

59 58 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات عربی: الَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں۔فارسی تزلزل در ایوان کسرا می افتاد انگریزی : I shall give you a large party of Islam میں تمہیں اسلام کی ایک بڑی جماعت عطا کروں گا) أردو: میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔پنجابی: جے تو میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند کتب کے نام ابراین احمدیہ سرمه چشم آریہ ازالہ اوہام آئینہ کمالات اسلام مسیح ہندوستان میں اعجاز اسیح ، تریاق القلوب، کشتی نوح حقیقۃ الوحی چشمہ معرفت، تحفہ غزنویہ تحفہ گولڑویہ سر الخلافہ سراج منیر اسلامی اصول کی فلاسفی حمامة البشرى بركات الدعا تذكرة الشهادتین، شہادت القرآن، شحنه حق جنگِ مقدس، لیکچر سیالکوٹ، لیکچر لاہور خطبہ الہامیہ نشان آسمانی۔www۔alislam۔org حضرت خلیفۃ المسیح الاول آپ کا نام حضرت حکیم حافظ مولوی نورالدین صاحب تھا۔آپ ۱۸۴۱ء کو بھیرہ ضلع سرگودھا میں محترم حافظ غلام رسول صاحب اور محترمہ نور بخت صاحبہ کے ہاں پیدا ہوئے۔۳۲ ویں پشت پر آپ کا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق " سے جا ملتا ہے۔ابتدائی تعلیم تو والدین سے حاصل کی۔پھر لاہور اور راولپنڈی میں تعلیم پائی۔مزید تعلیم کیلئے رامپور۔مراد آباد لکھنو۔میر ٹھ۔دہلی۔بھوپال۔مکہ۔مدینہ کے سفر کئے۔۱۸۶۵ء میں حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔۱۸۷۰ء میں واپس ہندوستان آئے۔۱۸۷۶ء سے ۱۸۹۲ء تک ریاست جموں و کشمیر میں بطور شاہی طبیب رہے۔۱۸۸۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر سب سے پہلے بیعت کرنے والے بنے۔اپریل ۱۸۹۳ء میں قادیان ملاقات کے لئے آئے پھر حضرت مسیح موعود کی تحریک پر قادیان کے ہی ہو کر رہ گئے۔۲۸ دسمبر اور ۲۹ دسمبر ۱۸۹۶ء کو جلسہ مذاہب عالم لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مضمون اسلامی اصول کی فلاسفی آپ کے زیر صدارت پڑھا گیا۔۲۰ دسمبر ۱۹۰۵ء کو انجمن کار پرداز مصالح قبرستان (بہشتی مقبرہ) کے امین مقرر ہوئے۔۲۹ جنوری ۱۹۰۶ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو صدرا مجمن احمدیہ کا پہلا صدرمقررفرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کے بعد ۲۷ مئی ۱۹۰۸ ء کو جماعت کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔اور مارچ 1914 ء میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔