کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 33
55 54 سیرۃ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کا نام حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام ہے۔13 فروری 1835 ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کا نام حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب رئیس قادیان اور والدہ محترمہ کا نام چراغ بی بی صاحبہ تھا۔قرآن کریم اور چند فارسی کتب مکرم فضل الہی صاحب سے۔عربی کی ابتدائی تعلیم مکرم فضل احمد صاحب سے علم صرف کی بعض کتب اور قواعد نحو کرم گل علی شاہ صاحب سے پڑھیں اور حکمت کی تعلیم اپنے والد محترم سے گھر پر ہی حاصل کی۔1864ء سے 1868ء تک سیالکوٹ شہر میں ملازمت کی۔آپ کو پہلا الہام 1865ء کو ہوا جو یہ ہے ثَمَانِينَ حَوْلًا أَوْ قَرِيْبًا مِنْ ذَلِكَ أَوْ تَزِيْدُ عَلَيْهِ سِنِينَا وَتَرَى نَسُلًا بَعِيدًا ( یعنی تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل دیکھے گا تذکره مطبوعہ 1969 ء صفحه (7) والدہ ماجدہ کا انتقال 1868ء میں ہوا۔1875ء کے آخر یا 1876ء کے شروع میں آپ نے آٹھ نو ماہ کے روزے رکھے اور اس دوران کثرت سے آپ پر انوار سماویہ کا نزول ہوا۔جون 1876ء میں آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوا اور مسجد اقصیٰ قادیان میں دفن کیا گیا۔1880 ء میں براہین احمدیہ کا پہلا اور دوسرا حصہ شائع کیا۔آپ کو ماموریت کا پہلا الہام مارچ 1882 ء کو ہوا قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ ( تو کہہ دے مجھے حکم دیا ہے اور میں مومنوں میں سے سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں 1883ء میں آپ کے بڑے بھائی حضرت مرزا غلام قادر صاحب نے وفات پائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف سب سے پہلا مقدمہ 1877ء میں www۔alislam۔org ایک عیسائی رلیا رام نے کیا یہ مقدمہ ڈاکخانہ کے نام سے مشہور ہے۔10 جولائی 1885 ء کو سرخ چھینٹوں والا نشان ظاہر ہوا۔اس دن رمضان کا 27 واں روزہ تھا اور اس کے عینی شاہد حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب ہیں۔1885ء کے شروع میں آپ نے مختلف مذاہب کے لیڈروں کو نشان نمائی کی دعوت دی۔جنوری 1886ء کو آپ ہوشیار پور گئے وہاں چالیس روز چلہ کشی کی۔20 فروری 1886ء کوخدا سے خبر پا کر ایک بیٹے مصلح موعود کی پیشگوئی فرمائی۔وو " یکم دسمبر 1888ء کو آپ نے بیعت کا اعلان فرمایا۔12 جنوری 1889ء کو آپ نے بیعت کے لئے دس شرائط کا اعلان فرمایا۔4 مارچ 1889ء کو لدھیانہ اور ہوشیار پور کا سفر کیا اور 23 مارچ 1889ء کو حضرت صوفی احمد جان صاحب آف لودھیانہ کے گھر میں پہلی بیعت لی اور جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بنیا د رکھی گئی۔حضرت صوفی صاحب کا گھر دار البیعت “ اور وہ دن ” یوم البیعت“ کہلاتا ہے۔1890 ء کے آخر میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا اس کا ذکر " توضیح مرام اور فتح اسلام میں ملتا ہے۔1891ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف مشہور اہل حدیث مولوی محمد حسین بٹالوی اور دیگر مولویوں نے کفر کا فتویٰ دیا۔27 دسمبر 1890 ء کو جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ قادیان میں ہوا جس میں 75 افراد نے شرکت کی۔1892ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لاہور سیالکوٹ کپورتھلہ، جالندھر اور لدھیانہ کے سفر کئے۔1892ء کے جلسہ سالانہ میں 327 افراد نے شرکت کی۔1893ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مشہور پادری عبداللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ کیا جو جنگ مقدس کے نام سے شائع ہوا۔1892ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کفر کا فتویٰ دینے والے علماء کو دعوت مباہلہ دی۔1893ء میں