کلام محمود — Page vii
174 [PA ۱۳۵ ۱۳ ۱۴۵ ۱۴۸ ۱۵۰ ۱۵۳ ۱۵۴ ۱۵۵ 66 GA A+ ام Ar ۸۵ Aч AA ہم انہیں دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں بخش در رحم کر دشکوے گلے جانے دو تو وہ قادر ہے کہ تیرا کوئی ہمسر ہی نہیں مرے ہمراز بیشک دل محبت کا ہے پیمانہ پہنچائیں در پہ یاد کے وہ بال و پر کہاں سعی پیہم میری ناکام ہوتی جاتی ہے یہ خاکسار نابکار دلبر و ہی تو ہے تیرے در پر ہی میری جان نکلے ہے زمیں پر سر مرا لیکن وہی مسجود ہے میں تمہیں جانے نہ دوں گا اک عمر گزر گئی ہے روتے روتے میں اپنے پیاروں کی نسبت ہرگز نہ کروں گا پسند کبھی خُدایا اے میرے پیارے خدا یا مرا دل ہو گیا خوشیوں سے معمور چھلک رہا ہے میرے علم کا آج بہیمانہ کر رحم اسے رحیم ! میرے حالِ زار پر ۹۲ آه پھر موسم بہار آیا اسے چاند تجھ میں نورِ خدا ہے چمک رہا دشمن کو ظلم کی پرچھی سے تم سینہ و دل بر مانے دو پڑھ چکے احرار نیسں اپنی کتاب زندگی