کلام محمود — Page viii
IDA 104 190 ۱۶۲ ١٩٣ ۱۲۵ 144 146 YA 14۔(41 수 ۱۳ ۱۷۳ ۱۷۴ ۱۷۵ 144 99 }** 1+1 1+ ۱۰۵ 1۔4 J-4 1-A ۱۰ H ١١٢ میری نہیں زبان جو اس کی زباں نہیں موت اس کی زہ میں گر تمہیں منظور ہی نہیں ذرا دل تھام لو اپنا کہ اک دیوانہ آتا ہے کل دوپہر کو ہم جب تم سے ہوتے تھے رُخصت نہیں کوئی بھی مناسبت رو شیخ و طرز ایاز میں ہم کس کی محبت میں دوڑے چلے آئے تھے بادۂ عرفاں پلادے ہاں پلا دے آج تُو یوں اندھیری رات میں نئے چاند تو چمکا نہ کر یہ نور کے شعلے اُٹھتے ہیں میرا ہی دل گرمانے کو اک دن جو آہ دل سے ہمارے نکل گئی میری رات دن بس یہی اک صدا ہے زخم دل جو ہو چکا تھا مدتوں سے مندمل ایمان مجھ کو دیدے عرفان مجھ کو دیدے گھر سے میرے وہ گلعذار گیا با دلِ ریش و حالِ زار گیا اے میری جاں ہم بندے ہیں اک آقا کے آزاد نہیں دہ میرے دل کو چھینکیوں میں کل کل کر یوں فرماتے ہیں ۱۱ انكِي عَلَيْكِ كُلَّ يَوْ مِروَلَيْلَةٍ ۱۱۴ وہ یار کیا جو یار کو دل سے اُتار دے کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں داا