کلام محمود — Page vi
│F 1۔0 1+6 J-A 1-9 11+ ۱۱۲ 110 114 114 HA 119 ۱۲۰ 14 ۵۶ مجھ سے ملنے میں انہیں مذر نہیں ہے کوئی میں تیرا در چھوڑ کر جاؤں کہاں طور پر جلوہ گناں ہے وہ ذرا دیکھو تو حقیقی عشق گر ہوتا تو سیتی جستجو ہوتی ملک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں میرے مولیٰ مری بگڑی بنانے والے پیٹھ میدان ونا میں نہ دکھائے کوئی پرده زلعب دوتا رخ سے ہٹالے پیارے کیوں غلامی کروں شیطاں کی خُدا کا ہو کر ۶۵ ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیاں ۶۶ MA ۶۹ 60 میں تو کمزور تھا اس واسطے آیا نہ گیا صید و شکار غم ہے تو مسلم خستہ جان کیوں اہل بینام ! یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو نہیں ممکن کہ میں زندہ رہوں تم سے جُدا ہو کر مریم نے کیا ہے ختم قرآں دل میرا بے قرار رہتا ہے۔یارو بسیح وقت کہ تھی جن کی انتظار کونسا دل ہے جو شرمندہ احسان نہ ہو ہوتا تھا کبھی میں بھی کسی آنکھ کا تارا پوچھو جو اُن سے زُلف کے دیوانے کیا ہوئے