کلام محمود — Page 21
دوستو ہرگز نہیں یہ ناچ اور گانے کے ان مشرق ومغرب میں میں یہیں کے پھیلا نیکے ن اس مین پر جبکہ تھا دور رخزاں وہ دن گئے اب تو میں اسلام پر یار و بہار آنے کے ن ظلمت و تاریکی و بند و تعصب مٹ چکے آگئے ہیں اب خُدا کے چہرہ دکھلانے کے بن جاہ وحشمت کا زمانہ آنے کو ہے عنقریب رہ گئے تھوڑے سے میں اب گالیاں کھانی کے دن ہے بہت افسوس اب بھی گرنہ ایمان میں لوگ جبکہ ہر ملک وطن پر میں عذاب آنے کے ان پیشگوئی ہو گئی پوری مسیح وقت کی پھر بہار آئی تو آئے صبح کے آنے کے دن ان دنوں کیا ایسی ہی بارش ہوا کرتی تھی یاں سیم کو کیا تھے یہ سمردی سے ٹھٹھر جانے کے بین دوستو اب بھی کرو تو بہ اگر کچھ عقل ہے ورنہ خود سمجھائے گا وہ یا سمجھانے کے دن وزد و دکھ سے آگئی تھی تنگ اسے محمود قوم اب گر جاتے رہے ہیں رنج وغم کھانے کے بن اخبار بدر جلد ۶-۲۸ ر ضروری نشانه