کلام محمود — Page 22
۲۲ H ہر چار سو ہے شہرہ ہوا قادیان کا مسکن ہے جو کہ مہدی آخر زمان کا آئیں گے اب سے دوبارہ زمیں پر کیوں نظارہ بھا گیا ہے اُنہیں آسمان کا عیسی تو تھا خلیفہ موسی او جاہلو! تم سے بتاؤ کام ہے کیا اس جوان کا ثم امت محمد خير ال سیسل سے ہو بے تکلف و فضل تم پر ای مهربان کا کھتے ہیں وہ اہم تھا راتیں سے ہے جو ہے بڑی ہی شوکت و خیبرت دوشان کا پہنچے گا جلد اپنے کیے کی سزا کو وہ اب بھی گماں جو بد ہے کسی بدگمان کا ہاں جو نہ مانے احمد مرسل کی بات بھی کیا اعتبار ایسے شقی کی زبان کا سچ سچ کہونڈا سے ذرا ڈر کے دو جواب کیا تم کو انتظار نہ تھا پاسبان کا اب آگیا تو آنکھیں چراتے ہو کس لیے کیوں راستہ ہو دیکھ رہے آسمان کا جس نے خُدا کے پاس سے آنا تھا آچکا تو آکے بوسہ سنگ در آستان کا اسلام کو اسی نے کیا آگے پھر درست ہوش کر کس طرح سے ادا مہربان کا سینہ سپر ہوا یہ مقابل میں کفر کے خطرہ نہ مال کا ہی کیا اور نہ جان کا توحید کا سبق ہی جو تعلیم شرک ہے ہاں کفر ہے بتانا اگر یقی بیان کا اخبار بدر جلد ۱۴۰۶/ مارچ شاه