کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 302

کلام محمود — Page 20

مندائے لاکھوں نشاں دکھائے ، نہ پھر بھی ایمان لوگ لائے عذاب کے منتظر ہیں ہائے نہیں جو بد بختی یہ تو کیا ہے صبا تر اگر وہاں گذر ہو تو اتنا پیغام میرا دیکھو اگرچہ تکلیف ہوگی تجھ کو یہ کام یہ بھی ثواب کا ہے کہ اے مثیل مسیح و عیسی : ہوں سخت محتاج میں دُعا کا خدا تری ہے قبول کرتا کہ تو اس اُمت کا ناخُدا ہے ندا سے میری یہ کر شفاعت که علیم و نور و دمی کی دولت مجھے بھی اب وہ کرے عنایت، یہی میری اس سے التجا ہے رہ خُدا میں ہی جاں فدا ہو ، دل عشق احمد میں مبتلا ہو اسی پہ ہی میرا خاتمہ ہو ، یہی میرے دل کا مدعا ہے نہیں ہے محمود کر اس کا ، کہ یہ اثر کس قدر کرے گا سخن کہ جو دل سے ہے نکلتا، وہ دل میں ہی جا کے بیٹھتا ہے