کلام محمود — Page 286
۲۸۶ تیری اُلفت کا جو شکار ہوا مرکے پھر زندہ لاکھ بار ہوا ر کو سینہ پر رکھ لیا میرے غم سے جب بھی میں اشکبار ہوا ۱۳۱ جنوری ۱۹۵۶مه میری نوشی گیاہ میں میری خوشی نگاہ میں میرا جہان اور ہے تیرا جہان اور ہے ہیں اسی بھر کے گھر ہے اسی حبیب کا یہ نور ظالمو ! بات ہے وہی ایک زبان اور ہے رساله جامعه المنفرت میگزین جلد هم مبرا - باسبت ماه جون نشانه