کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 302

کلام محمود — Page 287

الهامی قطعه آج ۲۲ ؍ جنوری کی رات کو میں نے دیکھا کہ کراچی کا کوئی اخبار ہے۔جو کسی دوست نے مجھے بھیجا ہے اور اس میں کچھ باتیں احمدیت کی تائید میں لکھی ہوئی ہیں، اس اخبار میں سیاہی سے اس دوست نے نشان کر دیا ہے تاکہ میں اس کو پڑھ سکوں۔اس کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ اخبار کے اوپر کے حصہ میں چار کالموں میں چار قطعات در دو شعر کے پھیلے ہوئے ہیں اور اچھے اچھے موٹے ہوئے حروف میں لکھے ہوئے ہیں مضمون تو میرے ذہن میں نہیں مگر مجھے وہ پسند آیا اور میں نے چاہا کہ میں ہی ایک قطعہ لکھوں۔اس پر میں نے رویا میں ایک قطعہ کہنا شروع کیا جو یہ ہے : میں آپ سے کہتا ہوں کہ اے حضرت مولاک ہوتے نہ اگر آپ تو ہفتے نہ یہ انسلاک جو آپ کی خاطر ہے بنا آپ کی شے ہے میرا تو نہیں کچھ بھی یہ ہیں آپ کے املاک یلوں معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں یہ شعر کہا جاتا ہوں گویا اس جگہ یعنی اس اخبار میں بہت ہی خوبصورت معلوم ہوتا ہے کہ پیش کرتا ہوں اس جنگ مین بار می بستی طور پر ساتھ ہی لکھے بھی جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ الفاظ بعینہ سارے کے سارے اسی طرز پر تھے لیکن مضمون اور اکثر الفاظ میں تھے۔پھر کیا کی حالت بدل جانے کے بعد غنودگی میں ہیں یہ شعر پڑھتا رہا ہوں۔اس لیے لیکن ہے کہ بعض الفاظ اس میں بدن کو آگئے ہوں۔اخبار الفضل مجله ۶-۲۷ ر جنوری شاہ لاہور - پاکستان -