کلام محمود — Page 285
PAD فاقوں مر جائے پر جائے نہ دیانت تیری دُور و نزدیک ہو مشهور امانت تیری جان بھی دینی پڑے گر تو نہ ہو اس سے دریغ کسی حالت میں نہ بھوٹی ہو ضمانت تیری غضب خدا کا کہ مال حرام کھاتا ہے نہیں بے جرم کی مدا صبح و شام کھاتا ہے نماز چھوٹے تو پھٹ جائے کچھ نہیں پڑھا مگر حرام کی روٹی مدام کھاتا ہے تو مال پہ تو جان و دل سے مرتا ہے وہ میں طرح سے بھی ہاتھ آئے کر گزرتا ہے یہ کیسا پیار ہے اصل وعیال سے تیرا شکم غریبوں کا انگاروں سے جو بھرتا ہے وقف ہے جاں ہر مال وسیم و زر مال دینے والے سے ہے بے خبر ایسے اندھے کا کریں ہم کیا علاج مغز سے غافل ہے پچھلکے پر نہ وقف کرنا جاں کا ہے کسب کمال جو ہو صادق وقت میں ہے بیمثال چیکس گے واقف کبھی مانند بدر آج دنیا کی نظر میں ہیں جلال بلال دھیرے دھیرے ہوتا ہے کسب کمال بو بکر کو بننا پڑتا شمس پہلے دن سے کہلاتا ہے شمس بدر ہوتا ہے مگر پہلے حلال دراز آ کہ پھر ظاہر کریں اُلفت کے راز یار میں ہو جائیں گم، عمرت میرے پیچھے پیچھے چلتا آ کہ میں بندہ محمود ہوں اور تو آیاز