کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 302

کلام محمود — Page 282

PAY ہائے اس غفلت میں ہم یا روس پیچھے رہ گئے یہ بھی کیسا پیار ہے پسیاروں سے پیچھے رہ گئے بڑھ گئے ہم سے صحابہ توڑ کر سر زدک کو ہم ٹیک ہو کر گر انباروں سے پیچھے رہ گئے بد که ۲۰ جولائی سنامه عابد کو عبادت میں مزا آتا ہے قاری کو تلاوت میں مزا آتا ہے میں بندہ عشق ہوں مجھے تو صاحب ہبہ کی محبت میں مزا آتا ہے الفضل و راگست ستشاه مرکز شرک سے آوازہ توحید اُٹھا دیکھنا دیکھنا مغرب سے ہے خورشید اُٹھا نُور کے سامنے ظلمت بھلا کیا ٹھہرے گی جان کو جلد ہی اب حکیم صنادید اُٹھا ۲۱ ستمبر نه امعنی آواز جب اذاں کی اللہ کے گھر سے تو گونج اُٹھے گا لندن نعسر الداکبر سے اُڑے گا پر چم توحید پھر سقف معلی پر مینگے دھکے دیو شرک کو گھر گھر سے ڈر ڈر سے الفضل ا را کتوبر له بر جان و دل کے ایک میری جان نکل رہی ہے تیری یاد چکیوں میں میرے دل کوئل رہی ہے نہیں جز دعائے یونس کے رہا کوئی بھی چارہ کہ غم والم کی پھلی مجھے اب نگل رہی ہے کبھی وہ گھڑی بھی ہو گی کہ کہوں گا یا الہی! سری عرض تو نے سُن لی وہ مجھے گل ہی ہے اخبار الفضل ۲۲ نومبر له عبث میں بارغ احمد کی تباہی کی یہ تدبیریں چھپی بیٹی ہیں تیری راہ میں مولیٰ کی تقدیریں بھلا مومن کو قاتل ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے نگا میں اس کی بجلی ہیں تو آہیں اس کی شمشیریں تری تقصیری خو ہی تجھ کوٹے وہیں گی اسے ظالم پیسٹ جائیگی تیرے پاؤں میں موہن کے زنجیریں اخبار الفضل ۳۰ ر و سیمر الله