کلام محمود — Page 283
PAP نظر آرہی ہے چمک احسن ازل کی شمع مجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا تیں عشق مجاز میں سمندر سے ہوائیں آرہی ہیں مرے دل کو بہت گرما رہی ہیں عرب جو ہے میرے دلبر کا مسکن بوتے خوش اس کی لے کر آرہی ہیں بشارت دینے سب خورد و کلاں کو اچھلتی کودتی وہ آ رہی ہیں اے سیمیا کبھی پوچھو گے بھی بیمار کا حال کون ہے جس سے کسے جا کے دل غار کا حال آنکھ کا کام نکل سکتا ہے کب کانوں سے دل کے اندھوں سے کہوں کیا ترے پیار کا حال رہے عمرتوں کا پیارے میری جاں شکار کب تک ؟ ترے دیکھنے کو ترسے دل بے قرار کب تک؟ شب ہجر ختم ہو گی کہ نہ ہو گی یا الہی! مجھے اتنا تو بتا دے کروں انتظار کب تک؟ کبھی پوچھو گے بھی آکر کہ بتا تو حال کیا ہے یوں ہی نوں بہائے جاتے دلِ داغدار کب تک؟ اندازاً ٣ - ١٩٣٩ء اندازاً ۱۹۲۸ یا ۹۳اته لے سے تقریب جلسہ سیرة النبی صلی اله علیه وتم منعقدہ مورخہار سمیرہ مسجد اتعلی میں بعد نماز عصر حضرت مصلح موعود نے اپنی تقریر میں خود یہ اشعار بیان فرمائے۔(ناشر) می کند اخبار المفضل امور دسمبر سته