کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 302

کلام محمود — Page 281

بارغ کفار سے ہم نت نئے پھل کھاتے ہیں دل ہی دل میں وہ جسے دیکھ کے جل جاتے ہیں یہ نہ کھو کہ دو بن کھاتے اپنے بیتے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں نگر نیزوں کے پھل کھاتے ہیں بدر ۱۸؍ فروری شاه یکھو سے کہا تھا جو ہوا وہ پر پورا کیا تم نے وہ دیکھی نہیں مرزا کی دُعا اب بھی کرو انکار تو حیرت کیا ہے مشہور ہے بے شرم کی ہے دُور بلا بقدر بدر مارچ شنگه چھ مارچ کو لیکھو نے اُٹھایا سنگر دُنیا سے کیا کوچ سُوئے نار سقر تھی موت کے وقت اس کی یہ طرفہ حالت لب پہ تھی اگر آہ تو تن میں مخبر یہ آریہ کہتے ہیں کہ دیکھو ہے ٹھیہ ایسی تو نہ بھی ہم کو بھی اُن سے امید تھی موت کہ ذلت کی شہادت کیسی کیا جن پر پڑے قہر خدا ہیں وہ شہید بدر ۲۱ / مارچ سنه کہتا ہے زاھد کہ میں فرمانروائی چھوڑ دوں گر خدا مجھ کو ملے ساری خدائی چھوڑ دوں دانه تسبیح اور اسکوں کا مطلب ہے اگر آب وانہ کے لیے سب پارسائی چھوڑ دوں بدره و در ضروری نشانه ہائے کثرت ہرے گناہوں کی وائے کوتاہی میری آہوں کی اس پر یہ فضل یہ کرم یہ رحم کیا طبیعت ہے بادشاہوں کی بدر ۲۰ زنانه