کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 302

کلام محمود — Page 277

۲۰۸ متبسم اپنی دانہ میں ہے شام اپنی ملک گیر نان بڑھاتے با قدر سستی نہ کر اسے ہم صفیر اپنی تدبیر و تفکر سے نہ ہرگز کام سے راہ نما ہے تیرا کامل راه او محکم بگیر آسماں کے راستوں سے ایک تو ہے باخبر ورنہ بھٹکے پھر رہے ہیں آج سب برنا پر میر ذرہ ذرہ ہے جہاں کا تابع فرمان حق تم ترقی چاہتے ہو تو بنو اس کے اسیر ڈہ علم دے جو کتابوں سے بے نیاز کرے وہ عقل دے کہ دو عالم میں سرفراز کرے وہ بھر دے جوش جنوں غیر گھر میں اسے مولیٰ جو آگے بڑھ کے در وصل پھر سے باز کرے مجھے تو اس سے غرض ہے کہ رامنی ہو دلبر یہ کام تیس کرے یا کوئی ایاز کرے نہ آئیں اس کے بلانے پر وہ ہے نائکن جو شخص عشق کی راہوں میں دل گداز کرے خدا کرے اسے دنیا و آخرت میں تباہ جو دشمنان محمد سے ساز باز کرے تری ہتھیلی پہ میں اپنے جان و دل دھر ڈوں گر اپنا ہاتھ میری سمت تو دراز کرے خدا کرے ہری سب عمر یوں گذر جائے میں اس کے ناز اٹھاؤں وہ مجھ پہ ناز کرے مجلة الجامعه ربوه بابت ماه اکتوبر نومبر دسمبر ۱۹۶۵ ه رساله مصباح ریوه بابت ماہ نومبر دسمبر له