کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 302

کلام محمود — Page 278

PA ۲۱۰ گناہوں سے بھری دنیا میں پیدا کر دیا مجھ کو مرے خالق مرے مالک یہ کیسا گھر دیا مجھ کو تقدس کی تڑپ دل میں تو آ نکھوں میں چہا رکھی مگران خواہشوں کے ساتھ دامن تر دیا مجھ کو انہیں امداد میں گر زندگی میری گذرنی تھی نہ کیوں اک عقل و دانائی سے خالی کر دیا مجھ کو مثال سنگ بھر سعی پی ہم میں پڑا رہتا نہ کچھ پرواہ ہوتی پاس رہتا یا جب دا رہتا ڑکن ہی تھا قیمت میں تو بیوشی بھی کی ہوتی نہ احساس دفار بتا نہ پاس آشنا رہتا مگر یہ کیا کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر تونے لگا دی آگ اور وقف تمنا کر دیا مجھ کو ٢١١ خم ہو رہی ہے میری کمر ہم چور ہے منزل خدا ہی جانے ابھی کتنی دور ہے کمر جسم میرا تو کچھ نہیں ہے اُسی کا ظہور ہے فانوس ہوں میں اور خدا اس کا نور ہے گکھڑ کی جمال یار کی ہیں " عجز و انکسار" سب سے بڑا حجاب مسیر پر مغرور ہے ہمت نہ ہارہ اس کے کرم پر نگاہ رکھ مایوسیوں کو چھوڑ وہ رب غفور ہے اخبار الفضل عش ۱۹ر دسمبر ۵ه - ربوه - پاکستان