کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 302

کلام محمود — Page 276

۲۰۶ اے محمد ! اے حبیب کردگار! میں تیرا عاشق ، تیرا دلدادہ ہوں گو ہیں قالب دو مگر ہے جان ایک کیوں نہ ہو ایسا کہ خادم زادہ ہوں اے مرے پیارے ! سہارا دو مجھے بیکس و بے بس ہوں خاک افتادہ ہوں جنت فردوس سے آیا ہوں میں تشنہ لب آئیں کہ جام بادہ ہوں میری الفت بڑھ کے ہر اگلفت سے ہے تیری رہ میں مرنے پر آمادہ ہوں * میرے تیرے پیار کا ہو راز داں کوئی نہ اور روک مجھ میں اور تجھ میں پھر نہ کچھ باتی ہے ایک میں ہوں پینے والا ایک تو ساتی رہے کاش تو پہلو میں میرے خود ہی آکر بیٹھ جائے عشق سے منمنور ہو کر وصل کا ساغر پلائے ایک بیکس نیم جاں کو آزمانا چھوڑ دے تارِ فرقت سے مرے دل کو جلانا چھوڑدے ☆ اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۱۶ جولائی شانه - ربوہ - پاکستان اخبار الفضل جلد ۱۶ - ۲۵/ دسمبر سنته - ربوه - پاکستان