کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 302

کلام محمود — Page 275

۲۷۵ ہے بھا گئی دنیا مجھے دیوانہ سمجھ کر ہے شمع قریب آرہی پر دانہ سمجھ کر دیکھا تو ہر اک جام میں تھا زہر ملال ہم آئے تھے اس دنیا کو میخانہ سمجھ کر میں تم سے ہوں تم مجھ سے ہوتی ایک سے جان کی کیوں چھوڑتے ہو تم مجھے بیگانہ سمجھ کر کہتے رہے ہم اُن سے دل زار کی حالت سُنتے رہے وہ غیر کا افسانہ سمجھ کر کی ہے ہر اک گوشہ میں تصویر کسی کی دل کو نہ میرے چھوڑیئے ویرانہ سمجھ کر ۲۰۵ لاکھ دوزخ سے بھی بدتر ہے جدائی آپکی بادشاہی سے ہے بڑھ کر آشنائی آپ کی اک نگہ میں زال دنیا چھین کر دل سے گئی رہ گئی بے کار ہو کر دل رُبائی آپ کی مسلم بے چارہ قید عیسوی میں ہے پھنسا یہ خدائی کفر کی ہے یا خدائی آپ کی حسن و احساں میں نہیں ہے آپ کا کوئی نظیر آپ اندھا ہے جو کرتا ہے بُرائی آپ کی اس کا ہر ہر قول محبت ہے زمانہ بھر یہ آج میرزا میں جلوہ گر ہے میرزائی آپ کی ⭑ اختبار الفضل جلد ۲۹۰۰ اکتوبر کہ لاہور پاکستان : اخبار الفضل علیه ۱۴۰۰ تومیریس لاہور پاکستان