کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 302

کلام محمود — Page 274

۲۰۲ پڑے سو رہے ہیں جگا دے ہیں مرے جا رہے ہیں چلا دئے ہیں ارادت کی راہیں دکھا دے ہمیں محبت کی گھاتیں سکھا دے ہیں جو پیاروں کے کانوں میں کہتے ہیں لوگ وہ میٹھی سی باتیں سُنا دے ہیں دہ کثرت پر اپنی ہیں رکھتے گھمنڈ تو اپنے کرم سے بڑھا دے ہیں ہیں رو رو کے آنکھیں بھی جاتی رہیں مری جان اب تو ہنسا دے ہیں ( ناصر آباد سندھ) عشق خدا کی مے سے بھرا جام لاتے ہیں ہم مصطفے کے ہاتھ پہ اسلام لائے ہیں عاشق بھی گھر سے نکلے ہیں جہاں دینے کیلئے تشریف آج وہ بھی سبر بام لائے ہیں تم غیر کو دکھا کے ہمیں قتل کیوں کرو ہم کب زباں پر شکوہ سر عام لائے ہیں ہم اپنے دل کا خون انہیں پیش کرتے ہیں گرو کے واسطے مئے گلفام لائے ہیں دنیا میں اس کے عشق کا پھر چاہے چار سُو تھنہ کے طور پر دل بد نام لائے ہیں قرآن سے ہم نے سیکھی ہے تدبیر بے خطا مید ہما کے واسطے اک وام لائے ہیں کنجیجی (سندھ) اور ربوہ کے سفر کے دوران) اخبار الفضل جلد ۰۰ در تبر شاہ لاہور پاکستان اخبار افضل جلد ۱۲۰۰ ستمبر سال لاہور پاکستان