کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 302

کلام محمود — Page 192

۱۲۹ مرادیں ٹوٹ ریس دیوانگی نے نہ دیکھی کامیابی آگهی نے میری جانب یونسی دیکھا کسی نے نظر آنے لگے ہر جا دینے مزاج یار کو برہم کیا ہے مری اُلفت مری دلبستگی نے زمین و آسماں کی بادشاہت عطا کی مجھ کو تیری بندگی نے جُدائی کا خیال آیا ہو دل میں لگے آنے پسینوں پر پینے کنارہ آ ہی جائے گا کبھی تو چلائے جا رہے ہیں ہم سفینے اُسی کے در پہ اب دھونی رمادوں کیا ہے فیصلہ یہ میرے جی نے جو میرا تھا اب اس کا ہو گیا ہے مرے دل سے کیا یہ کیا کسی نے جدائی میں تری تڑپا ہوں برسوں یونسی گزرے ہیں ہفتے اور مہینے دہ منہ رُخ آگیا خود پاس میرے لگائے چاند مجھ کو بے بسی نے وہ آنکھیں جو ہو ئیں اُلفت میں بے نور نہیں وُہ اُس کی اُلفت کے نگینے اُسی کا فضل ڈھاپنے گا میرا ستر نہ کام آئیں گے پینے مرینے اختبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۱۲ امتی بنده