کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 302

کلام محمود — Page 193

پرستاران زر یہ تو بتاؤ غریبوں کو بھی کو پچھا ہے کسی نے کنوئیں جھانکا گیا بہنوں عمر بھر میں ڈبویا مجھ کو دل کی دوستی نے انہیں ٹوٹا ہی سمجھو ہر گھڑی تم وہ دل جو بن رہے ہیں آبگینے خُدا را اس کو رہنے دیں سلامت یہ دل مجھ کو دیا تھا آپ ہی نے علامت کفر کی ہے تنگی نفس مگر اسلام سے کھلتے ہیں سینے رہی ہیں غوطہ خور بحرِ ہستی ڈرز سے میں بھرے جن کے سفینے مهاجر بننے والو یہ بھی سوچا کہ پیچھے چھوڑے جاتے ہو دینے